شاعری ہب / نظم / موت

موت

Maut – Lahad Men Bhii Yahii Gaib O Huzuur Rahtaa Hy

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

لحد میں بھی یہی غیب و حضور رہتا ہے

اگر ہو زندہ تو دل ناصبور رہتا ہے

مہ و ستارہ مثال شرارہ یک دو نفس

مئے خودی کا ابد تک سرور رہتا ہے

فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا

ترے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے

Lahad Mein Bhi Yehi Ghaib-o-Huzoor Rehta Hai

Agar Hi Zinda To Dil Na-Saboor Rehta Hai

Meh-o-Sitara, Misal-e-Shararah Yak Do Nafas

Mai-e-Khudi Ka Abad Tak Suroor Rehta Hai

Farishta Mout Ka Chhuta Hai Go Badan Tera

Tere Wujood Ke Markaz Se Door Rehta Ha

نظم Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے