شاعری ہب / نعت / مدینے جاؤں گا میں اک دن مدینے جاؤں گا

مدینے جاؤں گا میں اک دن مدینے جاؤں گا

Madine Jaaoon Ga mein Ik Din Madine Jaaoon Ga

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

مدینے جاؤں گا میں اک دن مدینے جاؤں گا

درِ حبیب پہ سر کو جھکاؤں گا

وہاں کے ذروں کو آنکھوں سے میں لگاؤں گا

ملی جو دھول تو چہرے پہ سجاؤں گا

گنبدِ سبز کے سائے میں بیٹھ کر رو رو کر

تمام دکھ میں مصطفیٰ کو سناؤں گا

وہ سنیں گے مری فریاد وہ ہیں غمخوارِ زمن

میں ان کی رحمت کے دریا میں نہاؤں گا

تائبؔ کی یہی حسرت ہے یہی اک ارمان

مدینے جا کے پھر واپس کبھی نہ آؤں گا

Madine jaaoon Ga mein Ik Din Madine jaaoon Ga

Dar-e Habeeb pe sar ko jhkaؤn Ga

Wahan ke zron ko Aankhon se mein lgaؤn Ga

Malli jo dhul to Chehre pe sjaon Ga

Gumbad-e Sabz ke saئey mein Baith kar ro ro kar

Tamaam dukh mein Mustafa ko snaؤn Ga

Woh sunein Ge mri faryad woh hain ghmkhoar-e zmn

Mein Un ki Rehmat ke Darya mein nhaؤn Ga

Taeb ki ihi hasrat hai ihi Ik arman

Madine ja ke phir Waapas kabhi na aaoon Ga

نعت
Comment
حفیظ تائب
تعارفِ شاعر

حفیظ تائب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1931ء – 2004ء 📍 پشاور / لاہور، پاکستان

عبدالحفیظ المعروف 'حفیظ تائب' (14 فروری 1931ء – 12 جون 2004ء، پشاور / لاہور) معاصر اردو اور پنجابی نعت گوئی کے امام، مجدد اور بابائے نعت تھے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے