شاعری ہب / غزل / خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں

خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں

Khamoshi se bhi Toofaan Uth-Te Hain Tabassum

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں اگر سمجھو تو بات ہے

کہ روح کی صدا کو دبایا نہیں جا سکتا سدا!

ہم نے تو سچائی کے لیے ہر آزمائش کو سہا

پر حق کے راستے سے قدم ہٹایا نہیں جا سکتا سدا!

تبسمؔ خودداری کا یہ سفر سدا تابندہ رہے گا

جسے تاریخ کے اوراق سے مٹایا نہیں جا سکتا سدا!

Khamoshi Se Bhi Toofaan Uth-te Hain Agar Samjho To Baat Hai

Ke Rooh Ki Sada Ko Dabaya Nahin Ja Sakta Sada!

Hum Ne To Sacchayi Ke Liye Har Aazmaayish Ko Saha

Par Haq Ke Raaste Se Qadam Hataya Nahin Ja Sakta Sada!

غزل Urdu
Comment
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
تعارفِ شاعر

صوفی غلام مصطفیٰ تبسم

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 4 اگست 1899 — 7 فروری 1978 📍

صوفی غلام مصطفیٰ تبسمؔ (4 اگست 1899ء – 7 فروری 1978ء) اردو اور پنجابی ادب کے لیجنڈری استاد، بچوں کے ادب کے بے تاج بادشاہ، قادر الکلام غزل گو اور خالقِ 'ٹوٹ بٹو' مانے جاتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے