خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں
Khamoshi se bhi Toofaan Uth-Te Hain Majeed
خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں اگر سمجھو تو بات ہے
کہ خاموش درختوں کی صدا کو سنا جا سکتا ہے سدا!
ہم نے تو قدرت کے ہر اشارے کو غزل میں پرویا
جہاں سچائی کے نور کو دیکھا جا سکتا ہے سدا!
امجدؔ خودداری کا یہ سفر سدا تابندہ رہے گا
جسے تاریخ کے اوراق سے مٹایا نہیں جا سکتا سدا!
Khamoshi Se Bhi Toofaan Uth-te Hain Agar Samjho To Baat Hai
Ke Khamosh Darakhton Ki Sada Ko Suna Ja Sakta Hai Sada!
Hum Ne To Qudrat Ke Har Ishaare Ko Ghazal Mein Piroya
Jahan Sacchayi Ke Noor Ko Dekha Ja Sakta Hai Sada!
Amjad Khuddaari Ka Yeh Safar Sada Taabinda Rahe Ga
Jise Tareekh Ke Auraaq Se Mitaaya Nahin Ja Sakta Sada!
مجید امجد
عبدالمجید المعروف مجیدؔ امجد (29 جون 1914ء – 11 مئی 1974ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، منفرد اور گہرے فلسفیانہ و کائناتی شعور کے مالک جدید اردو نظم نگار مانے جاتے ہیں۔ آپ جھنگ...
