شاعری ہب / غزل / خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں

خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں

Khamoshi se bhi Toofaan Uth-Te Hain Majeed

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں اگر سمجھو تو بات ہے

کہ خاموش درختوں کی صدا کو سنا جا سکتا ہے سدا!

ہم نے تو قدرت کے ہر اشارے کو غزل میں پرویا

جہاں سچائی کے نور کو دیکھا جا سکتا ہے سدا!

امجدؔ خودداری کا یہ سفر سدا تابندہ رہے گا

جسے تاریخ کے اوراق سے مٹایا نہیں جا سکتا سدا!

Khamoshi Se Bhi Toofaan Uth-te Hain Agar Samjho To Baat Hai

Ke Khamosh Darakhton Ki Sada Ko Suna Ja Sakta Hai Sada!

Hum Ne To Qudrat Ke Har Ishaare Ko Ghazal Mein Piroya

Jahan Sacchayi Ke Noor Ko Dekha Ja Sakta Hai Sada!

Amjad Khuddaari Ka Yeh Safar Sada Taabinda Rahe Ga

Jise Tareekh Ke Auraaq Se Mitaaya Nahin Ja Sakta Sada!

غزل Urdu
Comment
مجید امجد
تعارفِ شاعر

مجید امجد

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 29 جون 1914 — 11 مئی 1974 📍

عبدالمجید المعروف مجیدؔ امجد (29 جون 1914ء – 11 مئی 1974ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، منفرد اور گہرے فلسفیانہ و کائناتی شعور کے مالک جدید اردو نظم نگار مانے جاتے ہیں۔ آپ جھنگ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے