شاعری ہب / غزل / صبحِ نو کا سراغ ڈھونڈتے ہیں ہم

صبحِ نو کا سراغ ڈھونڈتے ہیں ہم

Subh-e-Nou ka Suraagh Dhoondte Hain Hum Majeed

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

صبحِ نو کا سراغ ڈھونڈتے ہیں ہم امجدؔ

تا کہ کائنات کا ہر ذرہ مسکرا سکے سدا!

ہم نے تو اپنے قلم کو فکر و شعور کا دیپ بنایا

تا کہ جہالت اور اداسی کا اندھیرا مٹ سکے سدا!

امجدؔ سچائی کا یہ سویرا ضرور طلوع ہو گا

جس سے سارا گلشن جگمگا سکے سدا!

Subh-e-Nau Ka Suraagh Dhoondte Hain Hum Amjad

Ta Ke Kaayenaat Ka Har Zarra Muskura Sake Sada!

Hum Ne To Apne Qalam Ko Fikr-o-Shaoor Ka Deep Banaya

Ta Ke Jahaalat Aur Udaasi Ka Andhera Mit Sake Sada!

Amjad Sacchayi Ka Yeh Sawera Zaroor Tulu Hoga

Jis Se Saara Gulshan Jagmaga Sake Sada!

غزل Urdu
Comment
مجید امجد
تعارفِ شاعر

مجید امجد

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 29 جون 1914 — 11 مئی 1974 📍

عبدالمجید المعروف مجیدؔ امجد (29 جون 1914ء – 11 مئی 1974ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، منفرد اور گہرے فلسفیانہ و کائناتی شعور کے مالک جدید اردو نظم نگار مانے جاتے ہیں۔ آپ جھنگ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے