شاعری ہب / نظم / خلوت

خلوت

Khalvat

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

رسوا کيا اس دور کو جلوت کي ہوس نے

روشن ہے نگہ ، آئنہ دل ہے مکدر

بڑھ جاتا ہے جب ذوق نظر اپني حدوں سے

ہو جاتے ہيں افکار پراگندہ و ابتر

آغوش صدف جس کے نصيبوں ميں نہيں ہے

وہ قطرہ نيساں کبھي بنتا نہيں گوہر

خلوت ميں خودي ہوتي ہے خودگير ، و ليکن

خلوت نہيں اب دير و حرم ميں بھي ميسر

Ruswa Kiya Iss Dour Ko Jalwat Ki Hawas Ne

Roshan Hai Nigah, Aaeena-e-Dil Hai Mukaddar

Aghosh-e-Sadaf Jis Ke Naseebon Mein Nahin Hai

Woh Qatra-e-Neesan Kabhi Banta Nahin Gohar

Khalwat Mein Khudi Hai Khudgeer, Walekin

Khalwat Nahin Ab Dair-o-Haram Mein Bhi Muyassar

نظم Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے