شاعری ہب / نظم / من ہیچ نمی ترسم از حادثۂ شب ہا

من ہیچ نمی ترسم از حادثۂ شب ہا

In The Accidents Of Night

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

من ہیچ نمی ترسم از حادثۂ شب ہا

شبہا کہ سحر گردد از گردش کوکب ہا

نشناخت مقام خویش افتاد بدام خویش

عشقی کہ نمودی خواست از شورش یارب ہا

آہی کہ ز دل خیزد از بہر جگر سوزی است

در سینہ شکن او را آلودہ مکن لب ہا

در میکدہ باقی نیست از ساقی فطرت خواہ

آن می کہ نمی گنجد در شیشۂ مشرب ہا

آسودہ نمی گردد آندل کہ گسست از دوست

با قرأت مسجد ہا با دانش مکتب ہا

Man hich nami trsm az hadsh Shab ha

Shbha ke Sahar grdd az gardish kaukab ha

Nshnakht mqam khoish aftad bdam khoish

Ashqi ke nmodi khoast az shorsh iarb ha

Aahi ke z Dil khizd az bhr jigar sozi ast

Dar sina shkn o ra aludah mkn Lab ha

Dar Maikada Baqi nist az Saaqi fitrat khvah

Aan mi ke nami gnjd Dar shishh mshrb ha

Aasodh nami grdd aandl ke gsst az Dost

Ba qrt masjid ha ba danish maktab ha

نظم Farsi
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے