شاعری ہب / نظم / جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد

جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد

Ilhaam aur Aazaadii – Ho Band-e-Azaad Agr Sahib-e-Ilhaam

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہو بندۂ آزاد اگر صاحب الہام

ہے اس کی نگہ فکر و عمل کے لیے مہمیز!

اس کے نفس گرم کی تاثیر ہے ایسی

ہوجاتی ہے خاک چمنستان شرر آمیز!

شاہیں کی ادا ہوتی ہے بلبل میں نمودار

کس درجہ بدل جاتے ہیں مرغان سحر خیز!

اس مرد خود آگاہ خدا مست کی صحبت

دیتی ہے گداؤں کو شکوہ جسم و پرویز!

محکوم کے الہام سے اللہ بچائے

غارت گر اقوام ہے وہ صورت چنگیز!

Ho Banda-e-Momin Azad Agar Sahib-e-Ilhaam

Hai Uss Ki Nigah Fikar-o-Amal Ke Liye Mehmaiz

Uss Ke Nafas-e-Garam Ki Taseer Hai Aesi

Ho Jati Hai Khaak-e-Chamanistan Sharar Amaiz

Shaheen Ki Ada Hoti Hai Bulbul Mein Namoodar

Kis Darja Badal Jate Hain Murghan-e-Sahar Khaiz

Uss Mard-e-Khud Aagah-o-Khuda-Mast Ki Sohabat

Deti Hai Gadaon Ko Shikoh-e-Jam-o-Pervaiz

Mehkoom Ke Ilhaam Se Allah Bachaye

Gharat Gar-e-Aqwam Hai Woh Soorat-e-Changaiz

نظم Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔