شاعری ہب / نظم / ہنروران ہند

ہنروران ہند

Hunarvaraan E Hind – Ishq-o-Masti ka Janaza Hy Takhiyal Un ka

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

عشق و مستي کا جنازہ ہے تخيل ان کا

ان کے انديشہ تاريک ميں قوموں کے مزار

موت کي نقش گري ان کے صنم خانوں ميں

زندگي سے ہنر ان برہمنوں کا بيزار

چشم آدم سے چھپاتے ہيں مقامات بلند

کرتے ہيں روح کو خوابيدہ ، بدن کو بيدار

ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نويس

آہ ! بيچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار!

Ishq-o-Masti Ka Janaza Hai Takhiyyul Un Ka

In Ke Andaisha-e-Tareek Mein Qoumon Ke Mazar

Mout Ki Naqsh Gari In Ke Sanam Khanon Mein

Zindagi Se Hunar In Barhamanon Ka Bezar

Chashme-e-Adam Se Chupate Hain Maqamat-e-Buland

Karte Hain Rooh Ko Khawabida, Badan Ko Baidar

Hind Ke Shayar-o-Sooratgar-o-Afsana Nawees

Ah, Becharon Ke Asaab Pe Aurat Hai Sawar

نظم Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے