شاعری ہب / نعت / حشر کے دن شفاعت کی امیدیں تم سے ہیں

حشر کے دن شفاعت کی امیدیں تم سے ہیں

Hashr ke Din Shafa’at ki Amidin Tum se Hain

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

حشر کے دن شفاعت کی امیدیں تم سے ہیں

بخشش کی سب نویدیں تم سے ہیں

طیبہ کی خاک کو سجدہ کرے روح میری

انوار کی لہریں اور عیدیں تم سے ہیں

شاہِ دوسرا کے دربار کی گدائی میں بہزادؔ

سائل کے بخت کی تجدیدیں تم سے ہیں

کالی کملی کے تلے امتی اماں پائے گا

عاصیوں کی نجات کی تائیدیں تم سے ہیں

نعتِ سرکار سناتے ہوئے جھوم اٹھے دل

کہ بخشش کی سب امیدیں تم سے ہیں

Hashr ke Din Shafa'at ki amidin tum se hain

Bakhshish ki Sab noidin tum se hain

Taiba ki khaak ko sajda krey Rooh Meri

Anoar ki lhrin aur aidin tum se hain

Shah-e dusra ke darbar ki gdaئi mein bhzad

Saئl ke bakht ki tjdidin tum se hain

Kali kamli ke tley ummati ammã paaye Ga

Aasion ki njat ki taئidin tum se hain

Naat-e Sarkar snatey hue jhom athey Dil

Ke Bakhshish ki Sab amidin tum se hain

نعت
Comment
بہزاد لکھنوی
تعارفِ شاعر

بہزاد لکھنوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1900ء – 1974ء 📍 لکھنؤ، برطانوی ہندوستان / کراچی

سردار احمد خان المعروف 'بہزاد لکھنوی' (31 دسمبر 1900ء – 1974ء، لکھنؤ / کراچی) اردو کے کلاسیکی نعت گو شاعر، غزل گو اور ریڈیو پاکستان کے نامور نغمہ نگار تھے۔ انہوں نے نعت گوئی کو...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے