شاعری ہب / نظم / غلاموں کے لیے

غلاموں کے لیے

Gulamon ke Liye – Hikmat Masharaq-o-Magrib Ny Sikhaya Hy Mugy

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

حکمت مشرق و مغرب نے سکھايا ہے مجھے

ايک نکتہ کہ غلاموں کے ليے ہے اکسير

دين ہو ، فلسفہ ہو ، فقر ہو ، سلطاني ہو

ہوتے ہيں پختہ عقائد کي بنا پر تعمير

حرف اس قوم کا بے سوز ، عمل زار و زبوں

ہو گيا پختہ عقائد سے تہي جس کا ضمير!

Hikmat-E-Mashriq-O-Maghrib Ne Sikhaya Hai Mujhe

Aik Nukta Ke Ghulamon Ke Liye Hai Ikseer

Deen Ho, Falsafa Ho, Faqr Ho, Sultani Ho

Hote Hain Pukhta Aqaid Ki Bina Par Tameer

Harf Uss Qoum Ka Be-Souz, Amal Zaar-o-Zuboon

Ho Gya Pukhta Aqaid Se Tehi Jis Ka Zameer

نظم Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے