شاعری ہب / غزل / اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ

اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ

Ejaz Hai Kisi ka ya Gardish-e-Zamana

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ

ٹوٹا ہے ایشیا میں سحر فرنگیانہ

تعمیر آشیاں سے میں نے یہ راز پایا

اہل نوا کے حق میں بجلی ہے آشیانہ

یہ بندگی خدائی وہ بندگی گدائی

یا بندۂ خدا بن یا بندۂ زمانہ

غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانی

شاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ

اے لا الٰہ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں

گفتار دلبرانہ کردار قاہرانہ

تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے

کھویا گیا ہے تیرا جذب قلندرانہ

راز حرم سے شاید اقبالؔ باخبر ہے

ہیں اس کی گفتگو کے انداز محرمانہ

Ejaz Hai Kisi Ka Ya Gardish-e-Zamana!

Toota Hai Asia Mein Seher-e-Farangiyana

Tameer-e-Ashiyan Se Main Ne Ye Raaz Paya

Ahl-e-Nawa Ke Haq Mein Bijli Hai Ashiyana

Ye Bandagi Khudai, Woh Bandagi Gadai

Ya Banda-e-Khuda Ban Ya Banda-e-Zamana!

Ghafil Na Ho Khudi Se, Kar Apni Pasbani

Shaid Kisi Haram Ka Tub Hi Hai Astana

Ae LA ILAH Ke Waris! Baqi Nahin Hai Tujh Mein

Guftar-e-Dilbarana, Kirdar-e-Qaharana

Teri Nigah Se Dil Seenon Mein Kanpte The

Khoya Gya Hai Tera Jazb-e-Qalandarana

Raaz-e-Haram Se Shaid Iqbal Ba-Khabar Hai

Hain Iss Ki Guftugu Ke Andaz Mehramana

غزل Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے