شاعری ہب / نعت / درودوں کی بارش سے دل کو دھوئیں گے

درودوں کی بارش سے دل کو دھوئیں گے

Duroodon ki Barish se Dil ko Dhoئin Ge

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

درودوں کی بارش سے دل کو دھوئیں گے

اور روضۂ اقدس کی جالی کو چھوئیں گے

کاش اک بار مدینے کا مسافر بن کر

خاکِ طیبہ میں عقیدت سے ہم سوئیں گے

شاہِ دوسرا کے دربار کا بھکاری بن کر

اپنی تقدیر کے سوئے ہوئے تارے جگائیں گے

محشر کے تپتے دن میں شفاعت ملے گی

سرکار کے دامن میں گناہ بخشوائیں گے

اقبالؔ عظیم نعتِ شہِ والا کا فیض ہے یہ

کہ دربارِ پیمبر میں سر اپنا جھکائیں گے

Duroodon ki Barish se Dil ko dhoئin Ge

Aur rozh aqds ki Jaali ko chhoئin Ge

Kash Ik Baar Madine ka Musafir ban kar

Khaak-e Taiba mein aqidt se Hum soئin Ge

Shah-e dusra ke darbar ka bhkari ban kar

Apni taqdir ke soئey hue Taare jgaئin Ge

Mahshar ke tptey Din mein Shafa'at mile gi

Sarkar ke daman mein Gunah bkhshoaein Ge

Aqbal Azeem naat-e shh-e vala ka fiz hai yeh

Ke darbar-e Paighambar mein sar Apna jhkaئin Ge

نعت
Comment
اقبال عظیم
تعارفِ شاعر

اقبال عظیم

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1913ء — 2000ء 📍 کراچی، پاکستان

سید اقبال عظیم ایک اردو شاعر اور خطہ بنگال میں اردو زبان کے اسکالر تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے