شاعری ہب / نعت / درودوں کا گلدستہ لائے ہیں

درودوں کا گلدستہ لائے ہیں

Duroodon ka Gldsth Laئey Hain

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

درودوں کا گلدستہ لائے ہیں

روشن ہے جہاں ترے نورِ صفا سے

تیرے دربار کی چوکھٹ ہے سلاطین کا تاج

جھولی بھرتے ہیں گدا تیری عطا سے

طیبہ کی مٹی ہے آنکھوں کا سرمہ سدا

تیرگی دور ہوئی اس کی ضیا سے

محشر میں شفاعت کی امیدیں ہیں بندھی

عاصی بچیں گے ترے دستِ دعا سے

پڑھتا ہے بہزادؔ درودِ نبی ہر گھڑی

بخشش ملے گی ترے لطف و سخا سے

Duroodon ka gldsth laئey hain

Roshan hai jahan trey Noor-e sfa se

Tere darbar ki chokht hai slatin ka taj

Jholi bhrtey hain Gada Teri Ata se

Taiba ki mitti hai Aankhon ka surma sada

Tirgi door hui Is ki Zia se

Mahshar mein Shafa'at ki amidin hain bndhi

Aasi Bachen Ge trey dast-e Dua se

Padhta hai bhzad Durood-e Nabi Har Ghadi

Bakhshish mile gi trey lut̤f-o-skha se

نعت
Comment
بہزاد لکھنوی
تعارفِ شاعر

بہزاد لکھنوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1900ء – 1974ء 📍 لکھنؤ، برطانوی ہندوستان / کراچی

سردار احمد خان المعروف 'بہزاد لکھنوی' (31 دسمبر 1900ء – 1974ء، لکھنؤ / کراچی) اردو کے کلاسیکی نعت گو شاعر، غزل گو اور ریڈیو پاکستان کے نامور نغمہ نگار تھے۔ انہوں نے نعت گوئی کو...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے