شاعری ہب / غزل / دنیا کے ستم یاد نہ اپنی وفا یاد

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی وفا یاد

Duniya ke Sitam Yaad na Apni Wafa Yaad

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی وفا یاد

اب مجھ کو نہیں کچھ بھی ترے درد کے بعد یاد

ہم نے تو لٹائی تھی محبت کی وہ بستی

جس بستی کو کرتا ہے زمانہ سدا برباد

ساغرؔ دلِ ویراں کی حقیقت نہ بیاں کر

اب کون سنے گا ترے نالوں کی یہ فریاد

Duniya Ke Sitam Yaad Na Apni Wafa Yaad

Ab Mujh Ko Nahin Kuch Bhi Tere Dard Ke Baad Yaad

Hum Ne To Lutayi Thi Mohabbat Ki Woh Basti

Jis Basti Ko Karta Hai Zamana Sada Barbaad

غزل
Comment
ساغر صدیقی
تعارفِ شاعر

ساغر صدیقی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1928 — 19 جولائی 1974 📍

محمد اختر المعروف ساغر صدیقی (1928ء – 19 جولائی 1974ء) اردو زبان کے سب سے سچے، درویش، قلندر صفت اور المیہ کے عظیم شاعر تھے۔ آپ امرتسر (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے