شاعری ہب / غزل / ڈبونے والوں کو شرمندہ کر چکا ہوں گا

ڈبونے والوں کو شرمندہ کر چکا ہوں گا

Dubone Walon ko Sharminda Kar Chuka Hoon Ga

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ڈبونے والوں کو شرمندہ کر چکا ہوں گا

میں ڈوب کر ہی سہی پار اتر چکا ہوں گا

پہنچ تو جاؤں گا آب حیات تک لیکن

زباں بھگونے سے پہلے ہی مر چکا ہوں گا

سنائی جائے گی جب تک مجھے سزائے سخن

سکوت وقت میں آواز بھر چکا ہوں گا

مثال ریگ ہوں میں ساعتوں کی مٹھی میں

وہ جب تک آئے گا سارا بکھر چکا ہوں گا

زمانہ آئے گا اس وقت خیر مقدم کو

جب اس جہاں سے مظفرؔ گزر چکا ہوں گا

Dubone walon ko sharminda kar chuka hoon ga

Main doob kar hi sahi paar utar chuka hoon ga

Pohnch to jaoon ga aab-e-hayat tak lekin

Zaban bhegone se pehle hi mar chuka hoon ga

Sunai jaye gi jab tak mujhe saza-e-sukhan

Sukoot-e-waqt mein awaz bhar chuka hoon ga

Misal-e-reg hoon main sa'aton ki muthi mein

Woh jab tak aaye ga sara bikhar chuka hoon ga

Zamana aaye ga us waqt khair-muqaddam ko

Jab us jahan se Muzaffar guzar chuka hoon ga

غزل Urdu
Comment
مظفر وارثی
تعارفِ شاعر

مظفر وارثی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1933ء – 2011ء 📍 میرٹھ، برطانوی ہندوستان / لاہور

محمد مظفر الدین صدیقی المعروف 'مظفر وارثی' (23 دسمبر 1933ء – 28 جنوری 2011ء، میرٹھ / لاہور) اردو زبان کے عظیم ترین نعت گو، حمد نگار اور لازوال نغمہ نگار تھے۔ انہوں نے دربارِ وارثیہ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے