شاعری ہب / شعر / دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

Dil se Jo Baat Nikalti Hai Asar Rakhti Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

Dil Se Jo Baat Nikalti Hai Asar Rakhti Hai

Par Nahin, Taaqat-e-Parwaaz Magar Rakhti Hai

شعر
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے