شاعری ہب / غزل / دل کے صحرا میں کوئی دیا جلا کر دیکھو

دل کے صحرا میں کوئی دیا جلا کر دیکھو

Dil ke Sahra mein Koi Diya Jala Kar Dekho Nasikh

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دل کے صحرا میں کوئی دیا جلا کر دیکھو

اور تنہائی کے سناٹے میں کلام سن کر دیکھو!

ہم نے تو لفظوں کو موتیوں کا ہار بنا دیا

اب اس حسن کو اپنی نگاہ میں بسا کر دیکھو!

ناسخؔ شاعری ہی روح کی سچی تسکین ہے

جسے اپنے دل کے گوشے میں سجا کر دیکھو!

Dil Ke Sehra Mein Koi Diya Jala Kar Dekho

Aur Tanhaayi Ke Sannaate Mein Kalaam Sun Kar Dekho!

Hum Ne To Lafzon Ko Motiyon Ka Haar Bana Diya

Ab Is Husn Ko Apni Nigaah Mein Basa Kar Dekho!

Nasikh Shaaeri Hi Rooh Ki Sacchi Taskeen Hai

Jise Apne Dil Ke Goshe Mein Saja Kar Dekho!

غزل Urdu
Comment
شیخ امام بخش ناسخ
تعارفِ شاعر

شیخ امام بخش ناسخ

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1776 — 12 جون 1838 📍 فیض آباد / لکھنؤ، ہندوستان

شیخ امام بخش ناسخؔ (1776ء – 12 جون 1838ء) دبستانِ لکھنؤ کے سب سے بڑے بانی، اردو زبان کے عظیم مصلح، لغوی ماہر اور استاد الشعراء مانے جاتے ہیں۔ آپ فیض آباد (اودھ، بھارت) میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے