شاعری ہب / غزل / دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو

Dhoop mein Niklo Ghataon mein Naha Kar Dekho Ghazal Hafi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو

زندگی کیا ہے کتابوں سے نکل کر دیکھو!

فاصلہ نظروں کا دھوکا بھی تو ہو سکتا ہے

کسی کے پاس ذرا بیٹھ کے چل کر دیکھو!

ہم نے تو لٹائی ہے محبت کی سچی دولت

کبھی تم بھی مری چاہت میں پگھل کر دیکھو!

حافیؔ جذبوں کی یہ سچائی سدا زندہ رہے گی

کبھی اس آگ میں دیوانے سنبھل کر دیکھو!

Dhoop Mein Niklo Ghataon Mein Naha Kar Dekho

Zindagi Kya Hai Kitaabon Se Nikal Kar Dekho!

Faasla Nazron Ka Dhoka Bhi To Ho Sakta Hai

Kisi Ke Paas Zara Baith Ke Chal Kar Dekho!

Hum Ne To Lutayi Hai Mohabbat Ki Sacchi Daulat

Kabhi Tum Bhi Meri Chaahat Mein Pighal Kar Dekho!

Hafi Jazbon Ki Yeh Sacchayi Sada Zinda Rahe Gi

Kabhi Is Aag Mein Deewane Sanbhal Kar Dekho!

غزل Urdu
Comment
تہذیب حافی
تعارفِ شاعر

تہذیب حافی

🏛️ معاصر دور ⏳ 5 دسمبر 1989 — - 📍

تہذیب الحسن المعروف تہذیبؔ حافی (پیدائش: 5 دسمبر 1989ء، تونسہ شریف، ضلع ڈیرہ غازی خان، پنجاب) معاصر اردو غزل کے سب سے مقبول، باکمال اور ہر دلعزیز نوجوان شاعر ہیں۔ آپ نے ابتدائی تعلیم تونسہ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے