شاعری ہب / نظم / برگد کی چھاؤں

برگد کی چھاؤں

Bargad ki Chhaon Nazm Qateel

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

برگد کی گھنی چھاؤں تلے جو بیت گئے دن

وہ بچپن کی معصومیت اور وہ حسیں خواب!

مٹی کے کھلونے اور وہ بارش کے ترانے

جن کی یاد سے دل ہوتا ہے سدا بے خواب!

قتیلؔ ماضی کا یہ سرمایہ سب سے قیمتی ہے

جس سے سنورتا ہے اس زندگی کا ہر اک باب!

Bargad Ki Ghani Chhaaon Tale Jo Beet Gaye Din

Woh Bachpan Ki Maasoomiyat Aur Woh Haseen Khwab!

Mitti Ke Khilaune Aur Woh Baarish Ke Tarane

Jin Ki Yaad Se Dil Hota Hai Sada Be-Khwab!

نظم Urdu
Comment
قتیل شفائی
تعارفِ شاعر

قتیل شفائی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 دسمبر 1919 — 11 جولائی 2001 📍 ہری پور / لاہور، پاکستان

محمد اورنگزیب خان المعروف قتیلؔ شفائی (24 دسمبر 1919ء – 11 جولائی 2001ء) اردو غزل اور فلمی نغمہ نگاری کی تاریخ کے سب سے مقبول، سحر انگیز ترنم کے مالک اور نغمگی کے بے تاج...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے