شاعری ہب / غزل / اے دل کسی کی یاد میں جینا فضول ہے

اے دل کسی کی یاد میں جینا فضول ہے

Aye Dil Kisi ki Yaad mein Jeena Fuzool Hai Ghazal Khumar

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

اے دل کسی کی یاد میں جینا فضول ہے

جو بھول جائے اس کو بھلانا اصول ہے!

ہم نے تو چاہا تھا چمن کو سجا کے رکھنا

پر ہر قدم پہ نکلا پرایا جو پھول ہے!

خمارؔ خودداری ہی سب سے بڑا وقار ہے

جسے ہر درد کے بدلے سنبھالنا قبول ہے!

Aye Dil Kisi Ki Yaad Mein Jeena Fuzool Hai

Jo Bhool Jaaye Us Ko Bhulaana Usool Hai!

Hum Ne To Chaaha Tha Chaman Ko Saja Ke Rakhna

Par Har Qadam Pe Nikla Paraaya Jo Phool Hai!

غزل Urdu
Comment
خمار بارہ بنکوی
تعارفِ شاعر

خمار بارہ بنکوی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 15 ستمبر 1919 — 19 فروری 1999 📍

محمد حیدر خان المعروف خمارؔ بارہ بنکوی (15 ستمبر 1919ء – 19 فروری 1999ء) اردو غزل کی تاریخ کے سب سے جادو بیان، سحر انگیز ترنم کے مالک، رندِ بلا نوش اور عالمی مشاعروں کے...

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔