شاعری ہب / غزل / عشق میں ہم تمہیں کیا بتائیں

عشق میں ہم تمہیں کیا بتائیں

Ishq mein Hum Tumhein Kya Batayein Ghazal Khumar Barabankvi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

عشق میں ہم تمہیں کیا بتائیں کس قدر چوٹ کھائے ہوئے ہیں

موت نے ہم کو مارا نہیں ہے ہم تو نظروں سے گھائل ہوئے ہیں!

ہم نے تو اپنے دل کا لہو نچھاور کیا تری یاد میں

اور زمانے کے ہر طعنے پر مسکرائے ہوئے ہیں!

خمارؔ وفا کے اس سودے میں کوئی گھاٹا نہیں

جس میں ہم اپنے سر کا سودا چکائے ہوئے ہیں!

Ishq Mein Hum Tumhein Kya Batayein Kis Qadar Chot Khaaye Hue Hain

Maut Ne Hum Ko Maara Nahin Hai Hum To Nazron Se Ghaayal Hue Hain!

Hum Ne To Apne Dil Ka Lahoo Nichhawar Kiya Teri Yaad Mein

Aur Zamane Ke Har Taane Par Muskuraaye Hue Hain!

غزل Urdu
Comment
خمار بارہ بنکوی
تعارفِ شاعر

خمار بارہ بنکوی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 15 ستمبر 1919 — 19 فروری 1999 📍

محمد حیدر خان المعروف خمارؔ بارہ بنکوی (15 ستمبر 1919ء – 19 فروری 1999ء) اردو غزل کی تاریخ کے سب سے جادو بیان، سحر انگیز ترنم کے مالک، رندِ بلا نوش اور عالمی مشاعروں کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے