شاعری ہب / غزل / اپنے چہرے سے جو زلفوں کو ہٹایا اس نے

اپنے چہرے سے جو زلفوں کو ہٹایا اس نے

Apne Chehre se Jo Zulfon ko Hataya Us Ne Ghazal Dagh

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

اپنے چہرے سے جو زلفوں کو ہٹایا اس نے

چاند کو بھی مکھڑا شرمایا اس نے

ہم تو مدہوش ہوئے دیکھ کے وہ شوخ نگاہ

کیا قیامت کا سماں جگ پہ سجایا اس نے

داغؔ اس بزم میں سب ہوش گنوا بیٹھے ہیں

جب جلوہ سرِ بزم دکھایا اس نے

Apne Chehre Se Jo Zulfon Ko Hataya Us Ne

Chaand Ko Bhi Mukhda Sharmaaya Us Ne

Hum To Madhosh Hue Dekh Ke Woh Shokh Nigaah

Kya Qayamat Ka Samaan Jag Pe Sajaaya Us Ne

غزل
Comment
نواب مرزا داغ دہلوی
تعارفِ شاعر

نواب مرزا داغ دہلوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 مئی 1831 — 15 فروری 1905 📍

نواب مرزا خاں داغ دہلوی (25 مئی 1831ء – 15 فروری 1905ء) اردو زبان کے سب سے بڑے زبان دان، فصیح اللسان اور شوخیِ گفتار و محاورہ بندی کے بے تاج بادشاہ تسلیم کیے جاتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے