شاعری ہب / نظم / ابھی تو میں جوان ہوں (شاہکار رومانی گیت و نظم)

ابھی تو میں جوان ہوں (شاہکار رومانی گیت و نظم)

Abhi to Main Jawan Hoon Geet Hafeez Jalandhari

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہوا بھی خوشگوار ہے، گلوں پہ بھی نکھار ہے

ترنمِ ہزار ہے، بہار پر بہار ہے

ابھی تو میں جوان ہوں!

کھلی ہیں سرخ بالیاں، ہنسی ہیں شوخ ڈالیاں

سجا کے پھول تھالیاں، چمن ہے سر پہ ڈالیاں

ابھی تو میں جوان ہوں!

نہ غم ہے اب ملال کا، نہ خوف ہے زوال کا

شباب ہے کمال کا، حسیں ہے دل خیال کا

ابھی تو میں جوان ہوں!

حفیظؔ دورِ جام ہے، وفا کا یہ پیام ہے

محبتوں کی بزم میں بہار کا سلام ہے

ابھی تو میں جوان ہوں!

Hawa Bhi Khushgawar Hai, Gulon Pe Bhi Nikhaar Hai

Tarannum-e-Hazaar Hai, Bahaar Par Bahaar Hai

Abhi To Main Jawan Hoon!

Khili Hain Surkh Baaliyan, Hansi Hain Shokh Daaliyan

Saja Ke Phool Thaaliyan, Chaman Hai Sar Pe Daaliyan

Abhi To Main Jawan Hoon!

Na Gham Hai Ab Malaal Ka, Na Khauf Hai Zawaal Ka

Shabaab Hai Kamaal Ka, Haseen Hai Dil Khayal Ka

Abhi To Main Jawan Hoon!

نظم Urdu
Comment
ابو الاثر حفیظ جالندھری
تعارفِ شاعر

ابو الاثر حفیظ جالندھری

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 14 جنوری 1900 — 21 دسمبر 1982 📍

ابو الاثر حفیظ جالندھری (14 جنوری 1900ء – 21 دسمبر 1982ء) پاکستان کے قومی ترانے کے خالق، ممتاز ترین غزل گو، گیت نگار اور اسلامی تاریخ کے سب سے بڑے منظوم شاہکار 'شاہنامہ اسلام' کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے