شاعری ہب / نظم / آوازۂ حق

آوازۂ حق

Aawaza-e-Haq Nazm Josh Malihabadi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

حق کی آواز کو کوئی دبا نہیں سکتا

سچائی کا چراغ کوئی بجھا نہیں سکتا!

ہم نے تو اپنے قلم سے تاریخ لکھی ہے

جسے گردشِ دوراں کبھی مٹا نہیں سکتا!

جوشؔ حریت کے میدان میں وہ امر ہو گیا

جو سچ کے سوا لبوں پہ کوئی کلام نہ لا سکا!

Haq Ki Awaaz Ko Koi Daba Nahin Sakta

Sacchayi Ka Chiraagh Koi Bujha Nahin Sakta!

Hum Ne To Apne Qalam Se Tareekh Likhi Hai

Jise Gardish-e-Dauraan Kabhi Mita Nahin Sakta!

نظم Urdu
Comment
جوش ملیح آبادی
تعارفِ شاعر

جوش ملیح آبادی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 5 دسمبر 1898 — 22 فروری 1982 📍 ملیح آباد / لکھنؤ / دہلی / اسلام آباد، پاکستان

شبیر حسن خاں المعروف جوش ملیح آبادی (5 دسمبر 1898ء – 22 فروری 1982ء) اردو ادب کے سب سے پرشکوہ، قادر الکلام، انقلابی اور الفاظ کے سب سے بڑے شہسوار و جادوگر شاعر تھے۔ آپ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے