روزے کے بنیادی احکام، شرائط اور جدید مسائل کی شرعی رہنمائی
💡 خلاصہ و اہم شرعی نکات (Key Takeaways):
- روزے کے لیے صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک نیت کے ساتھ کھانے پینے اور ازواجی تعلقات سے رکے رہنا فرض ہے۔
- جدید فقہی فتاویٰ کے مطابق آنکھ کے قطرے، خون ٹیسٹ کروانا اور معمولی انسولین انجکشن سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
- دمہ کے مریضوں کے لیے انہیلر کے استعمال سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، صحت یابی کی صورت میں قضا ورنہ فدیہ لازم ہے۔
- مریض اور شرعی مسافر کے لیے روزہ موخر کرنے کی رخصت ہے، بعد میں ان ایام کی قضا کرنا ضروری ہے۔
📖 قرآنی ہدایت (Quranic Decree)
«وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ»
اور کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ فجر کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے تمہارے لیے ظاہر ہو جائے، پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔ (سورۃ البقرۃ: 187)
📜 فرمانِ رسول ﷺ (Prophetic Guidance)
«قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ»»
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پینا چھوڑ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔" (صحیح البخاری: 1903)
روزے کی شرعی تعریف: شریعتِ اسلامی کی اصطلاح میں صبح صادق کے طلوع ہونے سے لے کر سورج کے مکمل غروب ہونے تک، عبادت کی نیت سے ہر قسم کے کھانے، پینے اور نفسانی خواہشات سے رکے رہنے کو "صوم” یعنی روزہ کہتے ہیں۔
1. روزے کے ارکان و فرائض
فقہاء کرام کے مطابق روزے کے دو بنیادی ارکان ہیں:
- امساک (رک جانا): صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور جنسی تسکین سے باز رہنا۔
- نیت: دل میں یہ پختہ ارادہ ہونا کہ میں اللہ کی رضا کے لیے رمضان کا فرض روزہ رکھ رہا ہوں۔ زبان سے نیت کرنا مستحب ہے لیکن دل کا ارادہ ہی بنیادی شرط ہے۔
2. وہ امور جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے
اگر کوئی شخص جان بوجھ کر درج ذیل کام کرے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے:
- قصداً کچھ کھا یا پی لینا۔
- جماع (ازواجی ملاپ) کرنا، جس سے قضا کے ساتھ کفارہ (مسلسل 60 روزے یا 60 مسکینوں کو کھانا کھلانا) بھی لازم آتا ہے۔
- ناک کے ذریعے دوا یا مائع معدے تک پہنچانا۔
- جان بوجھ کر منہ بھر کر قے کرنا۔
3. جدید طبی مسائل پر عصرِ حاضر کے فقہی فتاویٰ
موجودہ دور کی تحقیقات اور مجمع الفقہ الاسلامی کے متفقہ فیصلوں کے مطابق درج ذیل امور کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
- آنکھ اور کان میں دوا ڈالنا: جمہور علماء کے نزدیک آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، چاہے اس کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو۔ کان کا پردہ سلامت ہو تو کان کے قطروں سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔
- خون کا ٹیسٹ کروانا: سرنج کے ذریعے خون نکلوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، البتہ اگر اتنی مقدار میں خون نکلوایا جائے جس سے جسمانی کمزوری کا خوف ہو تو مکروہ ہے۔
- ڈرپ یا غذائی انجکشن: طاقت والی ڈرپس یا وہ انجکشن جو غذا کا متبادل ہوں، ان سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ بیماری کے علاج کا عام اینٹی بائیوٹک یا پین کلر انجکشن اگر گوشت یا رگ میں لگایا جائے تو راجح قول کے مطابق روزہ نہیں ٹوٹتا۔
- مسواک اور ٹوتھ پیسٹ: خشک مسواک کا استعمال ہر وقت مسنون ہے۔ ٹوتھ پیسٹ اگر حلق میں نہ اترے تو روزہ نہیں ٹوٹتا لیکن حلق میں ذرات جانے کا خطرہ ہونے کی وجہ سے مکروہِ تنزیہی ہے۔
