رمضان المبارک کے فضائل، برکات اور روزے کی فرضیت

✍️ مفتی محمد رضوان صدیقی • 📅 30 ستمبر 2026 • ⏱️ مطالعہ: 7 منٹ
💡 خلاصہ و اہم شرعی نکات (Key Takeaways):
  • رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کا عظیم مہینہ ہے۔
  • اس مبارک مہینے میں نفل عبادت کا ثواب فرض کے برابر اور ایک فرض کا ثواب ستر گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔
  • روزہ محض کھانے پینے کو چھوڑنے کا نام نہیں بلکہ زبان، آنکھ، کان اور تمام اعضاء کو گناہوں سے محفوظ رکھنے کا عہد ہے۔
  • قرآن مجید کا نزول اسی ماہِ مبارک میں ہوا، اس لیے تلاوتِ کلامِ پاک اس مہینے کی سب سے افضل عبادت ہے۔
📖 قرآنی ہدایت (Quranic Decree)
«شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ»
رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور کھلی نشانیاں ہیں راہ پانے کی اور حق و باطل میں فرق کرنے کی، پس تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پائے وہ اس کے روزے رکھے۔ (سورۃ البقرۃ: 185)
📜 فرمانِ رسول ﷺ (Prophetic Guidance)
«قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ»»
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔" (صحیح البخاری: 1898 | صحیح مسلم: 1079)

ماہِ رمضان المبارک کی آمد: اسلامی سال کا نواں مہینہ، ماہِ رمضان المبارک تمام مہینوں کا سردار ہے۔ یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں اللہ رب العزت نے انسانیت کی ابدی ہدایت کے لیے لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر قرآن مجید نازل فرمایا۔ قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

«شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ» (البقرۃ: 185)

1. روزے کی فرضیت اور حکمت

روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے چوتھا رکن ہے۔ یہ 2 ہجری میں مسلمانوں پر فرض کیا گیا۔ روزے کی بنیادی حکمت انسان کے اندر "تقویٰ” یعنی اللہ کا خوف اور پرہیزگاری پیدا کرنا ہے۔ جب ایک مسلمان اللہ کے حکم پر حلال کھانے پینے اور خواہشات کو چھوڑ دیتا ہے تو اس کے اندر یہ ملکہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ سارا سال حرام کاموں سے بھی بچتا رہے۔

2. احادیثِ نبویہ ﷺ میں رمضان کے فضائل

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» یعنی "جس شخص نے ایمان اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے تمام صغیرہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔” (صحیح البخاری: 38)

ایک اور حدیثِ قدسی میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ» "روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔” اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزے دار کو جو اجر ملے گا اس کا کوئی اندازہ فرشتوں کو بھی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ خود اپنے بے پایاں خزانوں سے اسے نوازے گا۔

3. رمضان المبارک کے تین عشرے

روایات کے مطابق رمضان المبارک کو تین عشروں میں تقسیم کیا گیا ہے:

  • پہلا عشرہ (رحمت): اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمتوں کے دروازے وا فرماتا ہے۔
  • دوسرا عشرہ (مغفرت): توبہ و استغفار کرنے والوں کے گناہ معاف فرمائے جاتے ہیں۔
  • تیسرا عشرہ (نجات): جہنم کی آگ سے بندوں کو آزاد کیا جاتا ہے اور اس میں اعتکاف و شبِ قدر شامل ہے۔

4. رمضان کا حق کیسے ادا کریں؟

اس ماہِ مبارک کی صحیح قدردانی یہ ہے کہ روزے کی حالت میں جھوٹ، غیبت، لڑائی جھگڑے اور گالی گلوچ سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کی جائے، نمازِ تراویح کا اہتمام کیا جائے اور غریبوں، مسکینوں اور رشتہ داروں پر صدقہ و خیرات کیا جائے۔