عقیدہ ختمِ نبوت کی قرآنی و حدیثی اساس
- حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کسی قسم کا نیا یا پرانا نبی مبعوث نہیں ہوگا۔
- عقیدہ ختمِ نبوت قرآن کی سو سے زائد آیات اور دو سو سے زائد متواتر احادیث سے ثابت ہے۔
- آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا دجال، کذاب اور دائرہ اسلام سے مکمل خارج ہے۔
عقیدہ ختمِ نبوت اسلام کا وہ روحِ رواں اور مرکزی نقطہ ہے جس پر دین کی پوری عمارت قائم ہے۔ اس عقیدے کا خلاصہ یہ ہے کہ نبوت و رسالت کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا، وہ سید الکونین، امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر آ کر ہمیشہ کے لیے مکمل اور ختم ہو گیا۔ اب رہتی دنیا تک نہ کوئی تشریعی نبی آ سکتا ہے اور نہ غیر تشریعی یا ظلی و بروزی۔
قرآنِ مجید کی قطعی دلالت
سورۃ الاحزاب کی آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو «خَاتَمَ النَّبِيِّينَ» کے لقب سے ملقب فرمایا ہے۔ عربی لغت اور تمام مفسرینِ کرام کے متفقہ فیصلے کے مطابق "خاتم” اس مہر کو کہتے ہیں جو کسی دستاویز کے اختتام پر لگائی جاتی ہے تاکہ مزید کوئی اضافہ نہ ہو سکے۔ اسی طرح سورۃ المائدہ میں فرمایا: «الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي» (آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا)، جب دین ہی مکمل ہو گیا تو اب کسی نئے نبی کی ضرورت ہی باقی نہ رہی۔
متواتر احادیث اور صحابہ کرام کا اجماع
رسول اللہ ﷺ نے بار بار صراحت کے ساتھ فرمایا: «لَا نَبِيَّ بَعْدِي» (میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا)۔ آپ ﷺ کے وصال کے فوراً بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ کرام نے سب سے پہلا جہاد نبوت کے جھوٹے دعویدار مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑا، جس میں سینکڑوں صحابہ و حفاظ نے جامِ شہادت نوش کیا لیکن ختمِ نبوت پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔ یہ اجماعِ صحابہ اس عقیدے کی قطعی اور ناگزیر اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
