عقیدہ آخرت کی اہمیت
💡 خلاصہ و اہم ایمانی نکات (Key Takeaways):
- دنیا دار العمل ہے جبکہ آخرت دار الجزا ہے جہاں انسان کو اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہوگا۔
- موت کے بعد سے لے کر قیامت تک کا دورانیہ 'عالمِ برزخ' کہلاتا ہے جہاں قبر میں جزا و سزا کا آغاز ہو جاتا ہے۔
- قیامت کی بڑی علامات (دجال، یاجوج ماجوج، نزولِ عیسیٰ علیہ السلام) کے ظہور کے بعد اس کائنات کا نظام لپیٹ دیا جائے گا۔
📖 قرآنی ہدایت (Quranic Decree)
«يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ * وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ * وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ * لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ»
جس دن انسان اپنے بھائی سے بھاگے گا، اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے، اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے، اس دن ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔ (سورۃ عبس: 34-37)
📜 فرمانِ رسول ﷺ (Prophetic Guidance)
«كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ، وَاسْتَمَعَ الْإِذْنَ مَتَى يُؤْمَرُ بِالنَّفْخِ فَيَنْفُخُ»
میں کیسے بے فکر ہو کر آرام کروں جب کہ صور والے فرشتے (اسرافیل) نے صور کو منہ میں لے رکھا ہے اور اپنی پیشانی جھکائے ہمہ تن گوش ہیں کہ کب انہیں صور پھونکنے کا حکم ملے۔ (جامع الترمذی: 2431)
آخرت اور قیامت پر ایمان (الإيمان باليوم الآخر) ارکانِ ایمان کا پانچواں بنیادی ستون ہے۔ یہ عقیدہ انسان کے اخلاق اور رویوں کی سب سے بڑی نگران طاقت ہے۔ جو شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ موت زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک ابدی اور لازوال زندگی کی شروعات ہے، وہ کبھی دنیاوی مفاد یا لذت کے لیے کسی کا حق نہیں مارتا اور نہ بے خوف ہو کر گناہ کرتا ہے۔
موت اور عالمِ برزخ کے مراحل
جب انسان کی روح جسم سے نکلتی ہے تو وہ عالمِ برزخ میں داخل ہو جاتا ہے:
- قبر کا امتحان: منکر و نکیر کے تین سوالات (تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ اور ان نبی کے بارے میں تو کیا کہتا تھا؟) ہر انسان سے پوچھے جاتے ہیں۔
- قبر کی راحت یا عذاب: مومن کے لیے اس کی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بن جاتی ہے اور گنہگار و کافر کے لیے جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔
قیامت اور میدانِ حشر کا ہولناک منظر
جب حضرت اسرافیل علیہ السلام دوسری بار صور پھونکیں گے تو تمام انسان اپنی قبروں سے ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بے ختنہ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ سورج سوا نیزے پر ہوگا اور ہر شخص اپنے گناہوں کے مطابق پسینے میں غرق ہوگا۔ اس سخت اور طویل ترین دن صرف وہ لوگ اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے جنہوں نے دنیا میں انصاف، تقویٰ، عفت اور سچی بندگی کی راہ اختیار کی تھی۔
