سعودی عرب 2 اکتوبر 2026 ⏱ 3 min read 👁 718

سنگاپور حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے ڈیٹنگ ایپ کیوں شروع کی؟

سنگاپور حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے ڈیٹنگ ایپ کیوں شروع کی؟

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 6:15 شام

سنگاپور نے پارٹنر کی تلاش کو سرکاری عمل بنانے کا نیا طریقہ نکالا ہے یعنی اب حکومت آپ کے لیے موزوں ساتھی تلاش کرے گی۔

ملک کے سرکاری ٹیکنالوجی ادارے (گَو ٹیک) نے فرسٹ ڈیٹ کے نام سے پارٹنر تلاش کرنے کی سروس شروع کی ہے۔

 یہ سروس 21 سے 35 سال کے سرکاری ملازمین کے لیے ہے اور اس کا مقصد انہیں روایتی ڈیٹنگ ایپس پر مسلسل پروفائل دیکھنے اور پسند یا ناپسند کرنے کی زحمت سے بچانا ہے۔

ڈیٹنگ ایپ میں صارفین ایک تفصیلی سوال نامہ پُر کرتے ہیں، پھر نوبیل انعام یافتہ الگورتھم ان کے لیے موزوں پارٹنر تلاش کرتا ہے اور انہیں کسی ایک ممکنہ ساتھی کا نام سامنے آنے کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔

روایتی ڈیٹنگ ایپس پر صارفین کے سامنے پروفائلز کی بھرمار ہوتی ہے، لیکن اس سروس میں ہر شخص کو پارٹنر تلاش کرنے کے ہر مرحلے میں صرف ایک ممکنہ ساتھی تجویز کیا جاتا ہے۔ دونوں افراد کو ایس ایم ایس موصول ہوتا ہے اور ان کے پاس یہ فیصلہ کرنے کے لیے 72 گھنٹے ہوتے ہیں کہ آیا وہ ایک دوسرے سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں یا نہیں؟

سنگاپور کے صحافی تیو کائی شیانگ نے اپنے نیوز لیٹر میں بتایا کہ اس سروس کا سوال نامہ روایتی ڈیٹنگ ایپس پر ہونے والی عام رسمی گفتگو سے کہیں زیادہ تفصیلی ہے۔

اس میں پوچھا جاتا ہے کہ آیا آپ ورزش کے بے حد شوقین ہیں یا ورزش کو بے فائدہ سمجھتے ہیں؟ آپ صبح سویرے جاگتے ہیں یا رات دو بجے تک جاگتے رہتے ہیں؟ آپ محبت کا اظہار کس طرح کرتے اور کس انداز میں محبت پانا پسند کرتے ہیں؟ اور کیا آپ بچے چاہتے ہیں؟

اس کے بعد وہ سوال آتا ہے جو شاید تعلق قائم ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کر دے یعنی اس وقت آپ کا کمرہ کیسا دکھائی دے رہا ہے؟

فرسٹ ڈیٹ ایپ کی ویب سائٹ کے مطابق درخواست دینے والوں کے لیے سنگاپور کے قومی ڈیجیٹل شناختی نظام ’سنگ پاس‘ کے ذریعے لاگ ان کرنا ضروری ہے۔ اس سروس کے لیے غیر شادی شدہ، بیوہ یا طلاق یافتہ افراد درخواست دے سکتے ہیں۔

سوال نامہ مکمل ہونے کے بعد ’فرسٹ ڈیٹ‘ 1962 میں ریاضی دانوں ڈیوڈ گیل اور لائیڈ شیپلی کے تیار کردہ ’گیل شیپلی سٹیبل میرج الگورتھم‘ کی مدد سے ممکنہ ساتھی تلاش کرتا ہے۔

یہ نظام اس قدر اہم ثابت ہوا کہ اس پر لائیڈ شیپلی کو 2012 میں معاشی علوم کے نوبیل یادگاری انعام میں حصہ دیا گیا، تاہم عام طور پر اس الگورتھم کا استعمال رومانوی تعلقات کے لیے نہیں، بلکہ میڈیکل گریجویٹس کو ہسپتالوں اور طلبہ کو سکولوں سے منسلک کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

فرسٹ ڈیٹ نے اسی طریقے کو ایک ایسے معاملے پر آزمایا ہے، جسے اعداد میں ناپنا کہیں زیادہ مشکل ہے، یعنی کیا دو اجنبی واقعی ایک دوسرے کے ساتھ ملاقات کرنا چاہیں گے۔

ڈیٹنگ پر کتاب کی مصنفہ فلین کا کہنا ہے کہ ایک مرد آپ سے سوالات کیوں کرے گا اگر جوابات آپ کے اس ورژن کو خطرے میں ڈالیں جو وہ چاہتا ہے کہ آپ ہوں؟‘(پکسلز)