سعودی عرب 23 ستمبر 2026 ⏱ 3 min read 👁 490

سعودی حوثی کشمکش اور پاکستان کا نازک امتحان

سعودی حوثی کشمکش اور پاکستان کا نازک امتحان

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 6:40 صبح

ریاض کے ہوائی اڈے کے قریب اٹھنے والا دھواں اور باب المندب کے کنارے بدلتا عسکری نقشہ بتا رہا ہے کہ یمن کی جنگ پھر اپنی سرحدوں سے باہر نکل رہی ہے۔

حوثی حملوں، سعودی کارروائیوں اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے اس کشمکش کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے جو خاموش ضرور ہو گئی تھی، لیکن ختم نہیں۔ اب سوال صرف صنعا یا مارب کا نہیں۔ معاملہ خلیج کی سلامتی، عالمی توانائی، بحری تجارت اور سعودی عرب کے دفاعی شراکت داروں کے فیصلوں تک پھیل چکا ہے۔ ان میں پاکستان کی صورت حال سب سے زیادہ حساس ہے۔

اس تنازعے کو محض ایران اور سعودی عرب کی پراکسی جنگ کہنا آسان مگر نامکمل تعبیر ہے۔ حوثی تحریک، جسے انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، شمالی یمن کی زیدی آبادی کے مذہبی، سیاسی اور معاشی احساس محرومی سے ابھری۔ اس نے علی عبداللہ صالح کے عہد میں ریاست کے خلاف کئی جنگیں لڑیں اور 2014 میں صنعا پر قبضہ کر لیا۔ ایران نے اسے اسلحہ، تربیت، فنی معاونت اور سیاسی پشت پناہی دی، لیکن اس کی مقامی جڑیں اور الگ مقاصد بھی ہیں۔ یہ ہی امتزاج اسے روایتی نیابتی گروہ سے زیادہ خود مختار اور دیرپا فریق بناتا ہے۔

مارچ 2015 میں خیال تھا کہ فضائی طاقت چند ماہ میں حوثیوں کو پسپا کر دے گی۔ نتیجہ مختلف نکلا۔ جنگ طویل ہوئی، یمن انسانی المیے میں ڈوبا اور حوثیوں نے کم لاگت والے ڈرون، میزائل اور بحری ہتھیاروں سے طاقت کے پیمانے بدل دیے۔ سعودی عرب کے جدید طیاروں اور مہنگے دفاعی نظام کے مقابل حوثیوں نے تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور شہروں کے لیے مستقل خطرہ پیدا کیا۔ اس جنگ نے ثابت کیا کہ تکنیکی برتری سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں بنتی۔

2022 کی اقوام متحدہ کی جنگ بندی اور عمان کی وساطت نے تشدد گھٹا دیا۔ مارچ 2023 میں چین کی مدد سے سعودی ایران تعلقات بحال ہوئے تو یمن میں امن کی امید بڑھی۔ ریاض حوثی قیادت سے بات کرنے لگا اور ایک فریم ورک زیر بحث آیا۔ یہ کسی کی فتح نہیں تھی۔ سعودی قیادت جان چکی تھی کہ فوجی کامیابی بہت مہنگی ہے جبکہ حوثیوں کو آمدن اور سیاسی قبولیت کے لیے سمجھوتہ درکار تھا۔ دونوں کے لیے خاموشی جنگ سے بہتر مگر مستقل امن سے کم تھی۔

میکسار ٹیکنالوجیز کی جانب سے 28 نومبر 2023 کو جاری کی گئی اس ہینڈ آؤٹ سیٹلائٹ تصویر میں حال ہی میں قبضے میں لیے گئے اسرائیلی بحری جہاز گلیکسی دکھائی دے رہا ہے جسے حوثی جنگجوؤں نے 19 نومبر کو جنوبی بحیرہ احمر میں قبضے میں لیا تھا (اے ایف پی)