سعودی عرب 17 اکتوبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 374

سعودی عرب، خلیجی ممالک پر حملے پاکستانی معیشت لیے تشویش ناک: وزیر خزانہ

سعودی عرب، خلیجی ممالک پر حملے پاکستانی معیشت لیے تشویش ناک: وزیر خزانہ

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 12:20 شام

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ہفتے کو کہا ہے کہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کے جھٹکے کو اب تک پاکستان نے برداشت کر لیا ہے، لیکن سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں بنیادی ڈھانچے پر حملے ملک کے طویل مدتی اقتصادی منظر نامے کے لیے ’تشویش ناک‘ ہیں۔ 

بنکاک میں آئی ایم ایف۔ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاس کے موقعے پر ایک انٹرویو میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے نومبر تک کے لیے توانائی کی مناسب فراہمی حاصل کر لی ہے اور اب وہ سردیوں کے مہینوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جب گھریلو ضروریات میں عموماً اضافہ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے (مشرق وسطیٰ جنگ کے) پہلے درجے کے اثرات کا اچھی طرح سے مقابلہ کیا۔

’ہمیں کسی قسم کی قلت کا سامنا نہیں رہا، پیٹرول پمپوں پر کوئی قطاریں نہیں لگیں اور نہ ہی امن و امان کا کوئی مسئلہ پیدا ہوا، جیسا کہ ہم نے بعض اوقات کچھ ممالک میں دیکھا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک حکومت کو ’انتہائی اشد ضرورت‘ محسوس نہ ہو، وہ ایل این جی کے حوالے سے سپاٹ کارگو نہیں خریدے گی، جو پہلے سے معاہدہ شدہ کھیپ کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگے پڑتے ہیں۔

فروری میں امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کی جانب سے ایران پر جنگ مسلط کیے جانے کے بعد سے توانائی کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے کیونکہ تہران نے جوابی کارروائی میں واشنگٹن کے خلیجی اتحادیوں کو نشانہ بنایا ہے جس سے تیل اور گیس کی ترسیل میں کمی آئی ہے۔

یمن کی خانہ جنگی دوبارہ بھڑک اٹھنے کے ساتھ ہی، حالیہ دنوں میں حوثیوں نے توانائی کی تنصیبات اور ایئرپورٹس سمیت سعودی بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملے کیے ہیں۔