سعودی عرب 11 اکتوبر 2026 ⏱ 3 min read 👁 628

ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں 6 پاکستانی زخمی، سفارت خانہ رابطے میں ہے: شہباز شریف

ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں 6 پاکستانی زخمی، سفارت خانہ رابطے میں ہے: شہباز شریف

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 10:57 شام

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ انہیں ریاض کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ’حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں چھ پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے کی خبر سن کر گہرا دکھ ہوا ہے۔‘

یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد نے آج بتایا کہ ریاض ایئرپورٹ کے ایک ٹرمینل پر نامعلوم پروجیکٹائل گرنے سے آگ بھڑک اٹھی۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ نامعلوم پروجیکٹائل کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 پر گرا۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے ایئرپورٹ کے قریب ایک کروز میزائل کو ’روک کر تباہ کر دیا۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

تازہ حملے کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں، البتہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ انہیں ایئرپورٹ پر ’حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں چھ پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے کی خبر سن کر گہرا دکھ ہوا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ریاض میں ہمارا سفارت خانہ سعودی حکام سے قریبی رابطے میں ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے۔‘

I am deeply saddened to learn that six Pakistani nationals got injured as a result of Houthis attack on King Khalid International Airport in Riyadh. I pray for their speedy recovery. Our Embassy in Riyadh is in close contact with the Saudi authorities and is extending all possible assistance to the affected families.

— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) October 11, 2026

یہ حملہ اسی ایئرپورٹ کے حصے میں ہوا جہاں اندرون ملک پروازوں کے لیے ٹرمینل 3 اور 4 واقع ہیں۔

یہ حملہ اس وقت ہوا جب حوثیوں نے کہا کہ یمن کے دارالحکومت صنعا میں ان کے زیر کنٹرول ایئرپورٹ کو ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا۔ 

انہوں نے اس حملے کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

گذشتہ روز بھی کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملہ ہوا تھا جس میں 12 افراد جان سے گئے جبکہ  300 سے زائد افراد زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویش ناک تھی۔

اتوار کے حملے کے وقت ایئرپورٹ بند تھا اور حکام نے دارالحکومت کے سکولوں میں آن لائن تعلیم شروع کروا دی تھی۔

آر 4 گروپ کی شدید مذمت

آر فور گروپ کی ریاستوں (پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی) نے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے مسلسل جارحانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے گروپ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق یہ حملے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ’گروپ اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ یہ حملے مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں، جو اس کی سلامتی، استحکام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔