دنیا 17 اکتوبر 2026 ⏱ 3 min read 👁 560

پشاور حادثہ: رشتہ دار کی شادی کے لیے چھٹی لینے سکول جانے والی ٹیچر واپس نہ آ سکیں

پشاور حادثہ: رشتہ دار کی شادی کے لیے چھٹی لینے سکول جانے والی ٹیچر واپس نہ آ سکیں

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 11:41 صبح

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں سکول کی چھت گرنے سے جان سے جانے والی ٹیچر سمرین بی بی حادثے کے روز اپنے آبائی علاقے میں ایک رشتہ دار کی شادی میں شرکت کے لیے چھٹی لینے سکول گئی تھیں، لیکن دوبارہ گھر واپس نہ آ سکیں۔

15 اکتوبر کو دیر کالونی میں واقع الخیر ایجوکیشن نامی سکول کی چھت گرنے سے 34 بچے اور سمرین بی بی نامی ایک ٹیچر جان سے چلی گئی تھیں۔

اہلخانہ کے مطابق تقریباً چھ ماہ سے اس سکول میں پڑھانے والی سمرین ایک رشتے دار کی شادی میں شرکت کے لیے چھٹی لینے کی غرض سے سکول گئی تھیں کہ یہ حادثہ ہو گیا۔

سمرین بی بی کے ماموں سردار بہادر نے انڈپینڈنٹ اردو سے فون پر گفتگو میں بتایا کہ حادثے کے دن ’وہ صبح بہت جلدی میں تھیں۔ چھوٹی بہن کو بھی کہا کہ ناشتہ جلدی کیوں تیار نہیں کیا۔ وہ سکول سے چھٹی لینا چاہتی تھیں تاکہ رشتہ دار کی شادی میں جا سکیں، لیکن کیا معلوم تھا کہ وہ آخری بار سکول جا رہی ہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں 

سردار بہادر ان دنوں اپنے آبائی علاقے میں موجود ہیں، جہاں ان کی بھانجی کے انتقال پر تعزیت کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔

والد کے انتقال کے بعد ماموں نے پرورش کی

سمرین بی بی کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کے علاقے درہ آدم خیل سے تھا، تاہم وہ اپنی والدہ، تین بھائیوں اور چار بہنوں کے ساتھ پشاور میں رہائش پذیر تھیں۔

ان کے والد تقریباً 12 سال قبل انتقال کر گئے تھے، جس کے بعد ان کی والدہ اور پشاور میں مقیم ماموں سردار بہادر نے بچوں کی پرورش کی۔

سردار بہادر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ والد کے انتقال کے وقت سمرین اور ان کے بہن بھائی کم عمر تھے، اس لیے وہ انہیں درہ آدم خیل سے پشاور لے آئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا: ’اس وقت سمرین اور ان کے بہن بھائی چھوٹے تھے۔ ہم انہیں پشاور لے آئے، یہیں تعلیم دلوائی اور یہیں رہائش اختیار کی۔‘

بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر آنے والی سمرین نے بیچلر کی ڈگری حاصل کی تھی اور انہیں تدریس کے شعبے سے خاص لگاؤ تھا۔

ان کے ماموں کے مطابق وہ الخیر ایجوکیشن سکول میں چند ماہ سے پڑھا رہی تھیں، جبکہ اس سے پہلے ایک قریبی نجی سکول میں تدریسی فرائض انجام دے رہی تھیں۔

سردار بہادر نے بتایا کہ سمرین کی ایک بہن بھی اسی سکول میں پڑھاتی تھیں جہاں حادثہ پیش آیا، تاہم انہوں نے تقریباً ایک ماہ قبل ملازمت چھوڑ دی تھی۔

15 اکتوبر 2026 کو پشاور کے ایک سکول کی چھت گرنے کے بعد کے مناظر (انڈپینڈنٹ اردو)