ایران امریکہ جنگ: پاکستان کے ثالثی کے چیلنج
ایران امریکہ جنگ: پاکستان کے ثالثی کے چیلنج
مشرق وسطیٰ ایک مرتبہ پھر جنگ، پابندیوں اور سفارتی بے یقینی کے ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ پورے خطے کو وسیع تر تصادم کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل بظاہر تعطل کا شکار ہے، واشنگٹن مزید سخت پابندیوں کی دھمکی دے رہا ہے اور تہران اپنے دفاع اور مزاحمت کے عزم کا اعادہ کر رہا ہے۔ اسی دوران پاکستان کے سپہ سالار سید عاصم منیر کا متوقع دورہ تہران اس سوال کو دوبارہ اہم بنا رہا ہے کہ کیا اسلام آباد دونوں ملکوں کے درمیان مزید قابل اعتماد ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے؟
اس سوال کا سادہ جواب ہاں یا نہیں میں نہیں دیا جا سکتا۔ ثالثی محض دو مخالف فریقوں کے درمیان پیغامات پہنچانے کا نام نہیں بلکہ اعتماد، وقت، سیاسی آمادگی اور قابل عمل تجاویز کو یکجا کرنے کا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ پاکستان کے پاس مکالمے کا راستہ کھولنے کی صلاحیت ضرور موجود ہے، لیکن کسی جامع معاہدے تک پہنچنے کا اختیار صرف واشنگٹن اور تہران کے پاس ہے۔
اسلام آباد دروازہ کھول سکتا ہے، فریقین کو میز تک لا سکتا ہے اور غلط فہمیوں کو کم کر سکتا ہے، لیکن وہ ان بنیادی اختلافات کو اپنی مرضی سے ختم نہیں کر سکتا جو کئی دہائیوں کی دشمنی، عدم اعتماد اور متضاد علاقائی مفادات سے پیدا ہوئے ہیں۔
پاکستان کی سفارتی تاریخ میں ایسے مواقع موجود ہیں جب اس نے متحارب یا ایک دوسرے سے دور طاقتوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کیا۔ 1970 کی دہائی کے آغاز میں پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان خفیہ رابطہ قائم کرنے میں مدد دی، جس نے بالآخر عالمی سیاست کی سمت بدل دی۔
افغانستان کے مختلف ادوار میں بھی اسلام آباد نے مذاکراتی راستے کھولنے، وفود کو قریب لانے اور امن عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان نے کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے مفاہمت کی کوشش کی۔ ان تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اس وقت نسبتاً مؤثر کردار ادا کرتا ہے جب وہ خاموش سفارت کاری، محدود اہداف اور مسلسل رابطے کو اختیار کرتا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جائن کریں
موجودہ بحران میں بھی پاکستان کا کردار محض خواہش یا دعوے تک محدود نہیں رہا۔ اسلام آباد یادداشت مفاہمت، اس کے بعد ہونے والے اعلیٰ سطحی رابطوں اور سوئٹزرلینڈ میں فنی سطح کے مذاکرات میں پاکستان اور قطر کی شرکت نے ایک عملی سفارتی ڈھانچہ فراہم کیا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اسلام آباد نے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمت پر عمل درآمد آگے بڑھانے کے لیے باقاعدہ ثالث کی حیثیت سے کردار ادا کیا۔ اگرچہ یہ عمل ابھی پائیدار امن میں تبدیل نہیں ہو سکا، لیکن اس نے کم از کم یہ ثابت کیا کہ فریقین پاکستان کو مکمل طور پر ناقابل قبول نہیں سمجھتے۔
پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کا جغرافیہ اور متنوع سفارتی تعلقات ہیں۔ ایران اس کا ہمسایہ ہے، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ اس کے گہرے دفاعی اور سیاسی روابط ہیں، چین اس کا تزویراتی شراکت دار ہے اور امریکہ کے ساتھ اختلافات کے باوجود رابطے کے دروازے کھلے ہیں۔
پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جو تہران، ریاض، انقرہ، بیجنگ اور واشنگٹن سے ایک ہی وقت میں بات کر سکتے ہیں۔ یہ ہی تنوع اسے ایک ممکنہ پل بناتا ہے، لیکن یہ ہی تعلقات اس کے لیے امتحان بھی ہیں کیونکہ ہر فریق یہ چاہتا ہے کہ پاکستان کی غیر جانب داری اس کے اپنے مفادات سے ہم آہنگ ہو۔
چار مارچ 2026 کو لبنان کے شہر ٹائر میں اسرائیلی حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی (اے ایف پی)
