سعودی عرب 30 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 167

حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے دفاع میں ’ہر ممکن ذرائع‘ استعمال کریں گے: خواجہ آصف

حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے دفاع میں ’ہر ممکن ذرائع‘ استعمال کریں گے: خواجہ آصف

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 6:27 صبح

وزیر دفاع خواجہ آصف نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف دفاع فراہم کرنے کے لیے ’جو بھی ذرائع دستیاب ہوں گے‘ انہیں استعمال کرے گا۔

خواجہ آصف کا یہ بیان اب تک اسلام آباد کی جانب سے اس بات کا واضح ترین عندیہ ہے کہ وہ خطے میں پھیلتے ہوئے تنازعے میں براہ راست شامل ہو سکتا ہے۔

اگرچہ وزیر دفاع نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا پاکستانی فورسز پہلے ہی فضائی حملوں میں حصہ لے چکی ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ نئے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی فوجی صلاحیتیں سعودی عرب کے لیے دستیاب ہوں گی۔

روم کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں خواجہ آصف سے جب پوچھا گیا کہ آیا پاکستان یمن میں ایرانی اہلکاروں کے خلاف فضائی حملوں میں شامل رہا ہے تو انہوں نے کہا: ’میں تفصیلات میں نہیں جاؤں گا، لیکن ظاہر ہے جب میں یہ کہتا ہوں کہ ہم اس انتظام کے تحت سعودی عرب کے دفاع کے پابند ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس جو بھی ذرائع دستیاب ہوں گے، وہ سعودی عرب کے لیے بھی دستیاب ہوں گے۔ میرے خیال میں یہ ایک واضح بیان ہے۔‘

ان کے جواب سے پاکستانی فوج کی کسی بھی حملے میں شرکت کی براہ راست تصدیق نہیں ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ آیا سعودی عرب، جسے حالیہ ہفتوں کے دوران حوثیوں کے بار بار حملوں کا سامنا رہا ہے، نے پاکستان سے مدد طلب کی ہے۔

سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے 7 اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں قرار دیا گیا کہ ایک رکن پر حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ تینوں ممالک نے اس معاہدے کو دفاعی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں ہے۔

فوجی کمانڈروں کی حالیہ ملاقات

خواجہ آصف کا یہ بیان پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے فوجی سربراہان کی ریاض میں ملاقات کے چند روز بعد سامنے آئے، جس میں حوثیوں کے حملوں کے ردعمل پر بات چیت کی گئی تھی۔