سعودی عرب 30 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 719

’گو سسٹر گو‘: پاک سعودی تعلقات کا نیا دور

’گو سسٹر گو‘: پاک سعودی تعلقات کا نیا دور

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 6:27 صبح

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں کتنی گرمجوشی آئی ہے اس کا اندازہ مجھے اپنے حالیہ ایک سفر کے دوران ہوا۔

میں سفر کرتے ہوئے ٹرانزٹ جدہ یا ریاض سے لیتی ہوں کیونکہ مجھے بطور خاتون یہ شہر اور ان میں موجود ائیر پورٹ بہت محفوظ لگتے ہیں۔ ویسے بھی دنیا کے جو حالات ہیں اس میں سفر کرنا ہی ایک بہت مشکل کام بن گیا ہے۔ اس لیے زیادہ تر سیاح محفوظ مقامات پر سفر کرنا مناسب سمجھتے ہیں اور روٹ بھی وہ ہی اختیار کرتے ہیں جو محفوظ ہو۔

سعودی عرب میں خواتین خود کو اس لیے محفوظ سمجھتی ہیں کیونکہ وہاں قوانین پر عمل درآمد سخت ہے۔ میری سفر کے دوران کوشش ہوتی ہے کہ ریاض یا سعودی ائیر لائن سے سفر کیا جائے۔ دوسری کمپنیوں کے مقابلے میں اس کی نشستیں اچھی ہیں، دام مناسب ہیں، سکرینز موجود ہیں اور دوران سفر وائی فائی چل رہا ہوتا ہے۔ ان کی اکانامی بھی بزنس کلاس سے کم نہیں۔ میں ہرا پاکستانی پاسپورٹ لے کر جب جدہ امیگریشن کاونٹر پر گئی تو سوچا کہ شاید ابھی سمارٹ واچ، جیولری اور جوتے سب اتاروا کر سکیورٹی پروٹوکول کے مطابق گزرنا ہو گا۔

پر وہاں موجود آفسر نے میرے ہاتھ میں پاسپورٹ دیکھ کر کہا ’سسٹر گو‘۔ مجھے سمجھ نہیں آیا جانے کے لیے کیوں کہہ رہا ہے۔ کیا مجھ سے کوئی سوال نہیں ہوں گے اور خاتون اہلکار تلاشی نہیں لیں گی۔ اس نے پھر کہا: ’پاکستان! گو سسٹر گو ٹو لاونج۔‘ اس ردعمل سے میں اور میری بہن خوش گوار حیرت میں مبتلا ہو گئے۔ جتنی دیر جدہ میں قیام رہا اچھا رہا اور میں تو ان کی ترقی دیکھ کر حیران رہ گئی۔ اعلی میزبانی، لذیذ کھانا، خوش اخلاق عملہ اور تمام برینڈز موجود کسی سیاح کو اور کیا چاہیے ہوتا ہے۔ اب جب بھی دوبارہ جانا ہو گا تو عمرہ ادائیگی کے بعد میں ریاض اور دیگر مقامات پر سیاحت کی غرض سے جاؤں گی۔

9 اگست 2026 کو اسلام آباد میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کی خوشی میں اسلام آباد میں آتش بازی کے مظاہرے کا ایک منظر (عامر قریشی / اے ایف پی)