اسرائیلی آباد کاروں کا مغربی کنارے میں حملہ، امریکی صحافی زخمی
اسرائیلی آباد کاروں کا مغربی کنارے میں حملہ، امریکی صحافی زخمی
مقبوضہ مغربی کنارے میں جمعے کو اسرائیلی آباد کاروں نے امریکی اخبار دا واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کرنے والی ایک امریکی فوٹو جرنلسٹ پر اس وقت حملہ کر دیا جب وہ فلسطینی زیتون کے کسانوں کے خلاف ہونے والے تشدد کی کوریج کر رہی تھیں۔
اے ایف پی کے مطابق حملے کے بعد معروف فوٹوگرافر ہیڈی لیوین کو رام اللہ کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ تصویروں میں انہیں ٹانگ اور ہاتھ پر زخموں کے ساتھ سٹریچر پر لیٹے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو، جو چند دن بعد ہونے والے انتخابات میں آباد کاروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کے دفتر نے اصرار کیا کہ اس واقعے کے محرکات غیر واضح ہیں، جب کہ اس کے برعکس ان کے سب سے بڑے حریف نے اس کی بھرپور مذمت کی۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب 10 دن قبل بھی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں زیتون کی فصل اتارنے کی کوریج کرنے والے اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر جعفر اشتیہ کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد انہیں بھی ہسپتال میں علاج کی ضرورت پڑی۔
ہسپتال کے بستر سے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ہیڈی لیوین نے کہا کہ جب وہ وسطی مغربی کنارے میں ابو فلاح اور ترمسعیا کے فلسطینی گاؤں کے قریب کام کر رہی تھیں تو لاٹھیاں پکڑے ’50 سے زائد‘ نقاب پوش آباد کاروں نے اچانک ان پر حملہ کر دیا۔
انہوں نے کہا: ’اچانک انہوں نے مجھ پر حملہ کر دیا۔ خوش قسمتی سے میں نے ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی، میں نے اپنا چہرہ بچانے کی کوشش میں اسے زمین کی طرف کیے رکھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ بس مجھے مسلسل لاتیں مارتے رہے۔‘
16 اکتوبر، 2026 کو مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں فلسطینی رضاکار زیتون کے ایک درخت کو لگائی گئی آگ بجھا رہے ہیں (اے ایف پی)
