سعودی عرب 13 اکتوبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 667

عالمی نظام میں روس کیا سوچ رہا ہے؟

عالمی نظام میں روس کیا سوچ رہا ہے؟

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 10:56 صبح

یوکرین کے محاذ پر جاری جنگ، مشرق وسطیٰ کی بے یقینی اور عالمی معاشی تقسیم میں ماسکو مستقبل کا ایک مختلف نقشہ دیکھ رہا ہے۔ روسی قیادت کے بیانات اور فیصلوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ موجودہ انتشار کو عالمی طاقت کی نئی تقسیم کا موقع سمجھتی ہے۔

روس چاہتا ہے کہ یورپ کی سلامتی سے توانائی تک کوئی بڑا فیصلہ اس کی مرضی کے بغیر نہ ہو۔ کریملن عالمی سیاست میں اپنا وہ مقام منوانا چاہتا ہے جو اس کے خیال میں سرد جنگ کے بعد اس سے چھین لیا گیا تھا۔

یکم اکتوبر 2026 کو والدائی فورم میں ولادی میر پوتن نے مغربی بالادستی سے کثیر قطبی دنیا کی طرف منتقلی کو طویل اور خطرات سے بھرپور عمل قرار دیا۔ ان کی گفتگو میں اعتماد اور بے یقینی ساتھ ساتھ تھے۔

اس سے لگتا ہے کہ ماسکو فوری استحکام کے بجائے طویل مسابقت کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔ اس کی توقع ہے کہ طاقت کے متعدد مراکز ابھریں گے اور امریکہ کو ان کے ساتھ عالمی معاملات طے کرنا پڑیں گے۔ یہ روسی قیادت کی تعبیر ہے، مستقبل کی ضمانت نہیں۔

اس سوچ کا تاریخی پس منظر 1991 میں سوویت یونین کا انہدام ہے۔ مغرب نے اسے سرد جنگ کی فتح سمجھا جبکہ روسی ریاستی بیانیے میں یہ عالمی مرتبے اور علاقائی اثر کے نقصان کی علامت ہے۔

مارچ 2023 کا خارجہ پالیسی تصور اسی ذہنیت کا عکاس ہے اور روس کو ایک منفرد تہذیبی ریاست قرار دیتا ہے۔ اس تصور میں روس اپنا سیاسی اور تہذیبی راستہ خود متعین کرتا ہے۔ مغربی اداروں سے قبولیت کے بجائے الگ مرکز کی حیثیت منوانا زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔

امریکہ اور روس کے مابین الاسکا میں سربراہی اجلاس ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب ایک بڑا سفارتی کھلاڑی بن گیا ہے (انڈپینڈنٹ عربیہ)