۱. ساکن سورج کا سائنسی مغالطہ اور تاریخی پس منظر
سولہویں صدی عیسوی میں نکولس کوپرنیکس (Nicolaus Copernicus) نے جب ہیلیو سینٹرک ماڈل (Heliocentric Model) پیش کیا تو بطلیموس کا زمینی مرکزیت کا نظریہ مسترد ہو گیا۔ لیکن اس انقلاب کے ساتھ ہی مغربی سائنسدانوں نے ایک نیا غلط مفروضہ قائم کر لیا کہ سورج کائنات کا ساکن مرکز ہے جو اپنی جگہ جما ہوا ہے اور تمام سیارے اس کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ سر آئزک نیوٹن کے دور تک یہی نظریہ مستند مانا جاتا رہا کہ سورج حرکت نہیں کرتا۔
۲. بیسویں صدی کا انکشاف اور کہکشانی گردش (Solar Apex)
۱۹۲۷ء میں ڈچ ماہرِ فلکیات جان اورٹ (Jan Oort) اور جدید فلکیاتی دوربینوں کے مشاہدات نے اس نظریے کو یکسر غلط ثابت کر دیا۔ جدید رصد گاہوں اور ناسا کے خلائی مشاہدات نے ثابت کیا کہ سورج قطعی طور پر ساکن نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے تمام تر سیاروں، چاندوں اور سیارچوں کے پورے خاندان سمیت ملکی وے (Milky Way) کہکشاں کے مرکز کے گرد تقریباً 828,000 کلومیٹر فی گھنٹہ (230 کلومیٹر فی سیکنڈ) کی محیر العقول رفتار سے مسلسل ایک بیضوی مدار میں محوِ گردش ہے۔
سورج کو کہکشاں کے مرکز کے گرد ایک چکر مکمل کرنے میں تقریباً 225 سے 250 ملین سال لگتے ہیں، جسے ایک "کائناتی سال” (Cosmic Year) کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سورج ویگا (Vega) ستارے کی سمت میں Solar Apex نامی ایک معین کائناتی منزل کی طرف مسلسل بڑھ رہا ہے۔
۳. قرآنی الفاظ کی بے مثل دقت: «تَجْرِي» اور «يَسْبَحُونَ»
قرآنِ حکیم نے ساڑھے چودہ سو سال قبل، جب انسان سورج کو صرف صبح و شام طلوع و غروب ہونے والی ایک عام تھالی سمجھتا تھا، اس حقیقت کا اعلان فرمایا:
«وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ»
"اور سورج اپنے ایک مقررہ ٹھکانے کی طرف مسلسل رواں دواں ہے، یہ زبردست، خوب علم والے رب کی ٹھہرائی ہوئی تقدیر ہے۔” (سورۃ یٰس: ۳۸)
اور سورۃ الانبیاء میں ارشاد فرمایا:
«وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ»
"اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا فرمایا، سب کے سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔” (سورۃ الانبیاء: ۳۳)
عربی لغت میں لفظ «سَبَحَ / يَسْبَحُ» کا اصل معنی کسی سیال (Fluid) میں اپنے اندرونی توازن کے ساتھ تیرنا ہے۔ جدید فلکیات کے مطابق خلائی زمان و مکان (Spacetime) کو ایک لچکدار فیبرک کی مانند سمجھا جاتا ہے جس کے اندر سورج اور اجرامِ فلکی کششِ ثقل کی لہروں کے درمیان بالکل ایک تیرتے ہوئے جسم کی طرح محوِ حرکت ہیں۔
۴. سائنسی تقابل کا خلاصہ
| قرآنی کلمات (۶۱۰ء) | جدید فلکیات کی تحقیقات (۱۹۲۷ء تا حال) |
|---|---|
| سورج اپنے معین ٹھکانے کی طرف تیزی سے چل رہا ہے («تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا»)۔ | سورج سولر اپیکس کی سمت میں کہکشانی مرکز کے گرد 828,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے۔ |
| سورج اور چاند دونوں اپنے فلک (مدار) میں تیر رہے ہیں («كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ»)۔ | سورج ساکن نہیں بلکہ کہکشانی مدار میں کششِ ثقل کے میدان کے اندر تیرتا ہے اور اپنے محور پر بھی گھومتا ہے۔ |
۵. فکری نتیجہ اور بصیرت
جب تمام کائنات جہالت کی تاریکی میں تھی اور سائنسدان سورج کو ساکن مانتے تھے، قرآن نے اس کے مسلسل رواں رہنے اور خلا میں تیرنے کی خبر دی۔ یہ اعجاز اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ قرآن اس خالق کا کلام ہے جس نے شمس و قمر کو اپنے اپنے مقررہ مداروں میں رواں فرمایا ہے۔