جنینیات و انسانی حیاتیات 🔬 علم الاعصاب 📅 دریافت: 1970ء کی دہائی (ایناٹومی و نیورولوجی) ⏱️ 6 منٹ مطالعہ

جلد میں درد کے اعصابی سینسرز اور کھال کی تبدیلی — سورۃ النساء اور پروفیسر تاجات تیاسن کا قبولِ اسلام

حوالۂ کلامِ الٰہی: سورۃ النساء: ۵۶ • توثیق و تحقیق: پروفیسر تاجات تیاسن (Prof. Tejatat Tejasen - چیئرمین شعبہ ایناٹومی، چیانگ مائی یونیورسٹی، تھائی لینڈ)

۱. درد کا احساس اور قدیم طبی قیاس آرائیاں

تاریخ کے طویل ادوار میں اطباء اور فلاسفہ کا یہی گمان رہا کہ انسان کے جسم کا ہر عضو، ہڈی، گوشت اور خون یکساں طور پر درد کا ادراک کرتا ہے، یا یہ کہ درد کا سارا تعلق براہِ راست دل سے ہے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ درد کے اصل احساس کا مرکز انسان کی جلد کے نیچے موجود مخصوص خوردبینی اعصابی ریشے ہیں۔

۲. جدید نیورواناٹومی اور تھرڈ ڈگری برنز (Third-Degree Burns)

بیسویں صدی میں جدید نیورولوجی اور خردبینی اناٹومی کی ترقی سے یہ انکشاف ہوا کہ انسانی جلد تین بنیادی تہوں پر مشتمل ہوتی ہے: ایپی ڈرمس (Epidermis)، ڈرمس (Dermis) اور ہائپوڈرمس (Hypodermis)۔ درد، جلن اور گرمی کا احساس کروانے والے ریسیپٹرز جنہیں "نوسی سیپٹرز” (Nociceptors) اور فری نرو اینڈنگز (Free Nerve Endings) کہا جاتا ہے، وہ جلد کی درمیانی تہہ ڈرمس میں گنجان جال کی صورت میں پھیلے ہوتے ہیں۔

جدید ٹراما سرجری اور برن میڈیسن میں یہ ایک مستند اصول ہے کہ اگر مریض کو فرسٹ یا سیکنڈ ڈگری جلن ہو تو وہ شدید درد سے چیختا ہے، لیکن اگر جلن تھرڈ ڈگری (Third-Degree Burn) ہو یعنی کھال اور اس کے اعصاب مکمل طور پر جل کر راکھ ہو جائیں، تو متاثرہ شخص کو درد کا احساس ہی نہیں ہوتا کیونکہ درد کا سگنل دماغ تک پہنچانے والے تار جل چکے ہوتے ہیں!

۳. سورۃ النساء کا حیرت انگیز سائنسی بیان

قرآنِ مجید نے چودہ سو سال قبل سورۃ النساء میں کفار کے عذاب کا ذکر کرتے ہوئے ایک انتہائی باریک میڈیکل حقیقت واضح فرمائی:

«إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ»
"جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا، ہم انہیں عنقریب آگ میں داخل کریں گے۔ جب بھی ان کی کھالیں جل کر پک (گل) جائیں گی، ہم ان کے بدلے دوسری نئی کھالیں تبدیل کر دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں!” (سورۃ النساء: ۵۶)

غور فرمائیے کہ قرآن نے یہ نہیں فرمایا کہ ان کے گوشت کو بدلیں گے یا ہڈیوں کو بدلیں گے، بلکہ صراحت کے ساتھ «جُلُود» (کھالوں) کی تبدیلی کا حکم دیا اور اس کی سائنسی علت بھی خود بیان فرما دی: «لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ» (تاکہ وہ درد کا مزہ چکھتے رہیں)۔ یعنی کھال جلنے کے بعد درد ختم ہو جائے گا، اس لیے نئی کھال لائی جائے گی جس میں درد کے تروتازہ اعصابی ریسیپٹرز موجود ہوں!

۴. پروفیسر تاجات تیاسن کا تاریخی واقعہ اور کلمۂ شہادت

۱۹۸۲ء میں سعودی عرب کے شہر ریاض میں آٹھویں میڈیکل کانفرنس منعقد ہوئی جس میں تھائی لینڈ کی چیانگ مائی یونیورسٹی کے شعبۂ اناٹومی کے ڈین اور سابق صدر پروفیسر تاجات تیاسن (Prof. Tejatat Tejasen) نے شرکت کی۔ جب ان کے سامنے سورۃ النساء کی یہ آیت اور اس کا سائنسی مفہوم پیش کیا گیا تو پہلے پہل انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا کہ یہ چودہ سو سال پرانی کتاب میں درج ہو سکتا ہے۔

پروفیسر تیاسن نے قرآن کی اصل عربی عبارت کا خود مطالعہ کیا اور دیگر اطباء سے مشاورت کی۔ کانفرنس کے اختتامی سیشن میں وہ مائیکروفون پر آئے اور انہوں نے پوری عالمی برادری کے سامنے یہ تاریخی بیان دیا:

"پچھلے تین سالوں میں میں نے قرآن کا گہرا مطالعہ کیا ہے، اور مجھے مکمل یقین ہو چکا ہے کہ جو کچھ قرآن میں ۱۴۰۰ سال پہلے لکھا گیا تھا وہ کامل سچائی ہے جس کی تصدیق سائنس اب کر رہی ہے۔ چونکہ نبی محمد ﷺ امی تھے اور پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے، اس لیے یہ کلام خالقِ کائنات کی طرف سے وحی کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے میں اعلان کرتا ہوں: لا إله إلا الله محمد رسول الله!”

۵. سائنسی تقابل کا خلاصہ

قرآنی کلام (۶۱۰ء) جدید نیورولوجی و برن میڈیسن
کھال کے جل جانے کے بعد درد محسوس نہیں ہوتا («كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم»)۔ تھرڈ ڈگری برنز میں ڈرمس کے پین ریسیپٹرز تباہ ہو جاتے ہیں جس سے درد کا احساس مٹ جاتا ہے۔
عذاب کا احساس جاری رکھنے کے لیے نئی کھال کی ضرورت ہے («بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا»)۔ درد کے تسلسل کے لیے نئے فعال نوسی سیپٹرز کا جسم پر ہونا حیاتیاتی طور پر ناگزیر ہے۔
🌌 تمام سائنسی معجزات و قرآنی نشانیاں دیکھیں ←
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
معجزاتِ الٰہی و اعجازِ قرآن • اردو کووریج دائرۃ المعارف

جلد میں درد کے اعصابی سینسرز اور کھال کی تبدیلی — سورۃ النساء اور پروفیسر تاجات تیاسن کا قبولِ اسلام

«إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا»
"جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا، ہم انہیں عنقریب آگ میں جھونکیں گے۔ جب جب ان کی کھالیں جل کر گل جائیں گی، ہم ان کے بدلے دوسری نئی کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں، بے شک اللہ بڑا زبردست، حکمت والا ہے۔"
— سورۃ النساء: ۵۶
خلاصۂ اعجاز و جدید سائنس:
قدیم طب کا گمان تھا کہ پورا جسم یکساں درد محسوس کرتا ہے؛ قرآن نے ۱۴۰۰ سال قبل بتایا کہ درد کا احساس کھال جلنے سے ختم ہو جاتا ہے، اس لیے کھال کو نئی کھال سے بدلنا ضروری ہے۔
🔬 شعبہ: علم الاعصاب 📅 سائنسی دریافت: 1970ء کی دہائی (ایناٹومی و نیورولوجی) urducoverage.com/miracles