زمین اور کائنات ⏱️ مطالعہ کا وقت: 6 منٹ انسانی تاریخ کی سب سے دور رس سائنسی ایجاد

وائجر خلائی مشن — انسان کی بنائی ہوئی وہ مشین جو ہمارے نظامِ شمسی کی سرحدیں پار کر گئی

سائنسی نام: Voyager 1 & 2 Interstellar Mission

زمین سے 24 ارب کلومیٹر دور جہاں سگنل کو روشنی کی رفتار سے پہنچنے میں 22 گھنٹے لگتے ہیں، سنہری ریکارڈ پر انسانیت کا سلام لیے تاریک خلا کا تنہا مسافر

تحقیق و ادارت: اردو کوریج سائنسی ڈیسک • مستند بین الاقوامی حوالہ جات و جریدہ
💡

اہم ترین حقائق و خلاصہ (Key Highlights)

  • ✦ وائجر 1 تاریخ میں انسان کا بنایا ہوا سب سے دور ترین جسم ہے جو زمین سے 24 ارب کلومیٹر (160 سے زائد فلکیاتی اکائیاں) دور انٹرسٹیلر اسپیس میں تیر رہا ہے۔
  • ✦ وائجر کے اندر لگا کمپیوٹر آج کے ایک عام اسمارٹ فون کے مقابلے میں لاکھوں گنا کمزور ہے اور اس کی میموری صرف 69 کلو بائٹس (ایک چھوٹی تصویر کے برابر) ہے!
  • ✦ دونوں وائجر جہازوں پر سونے کا پانی چڑھی ایک تانبے کی فونوگراف ڈسک (The Golden Record) لگی ہے جس پر زمین کی 55 زبانوں میں سلام، 115 تصاویر، اور وہیلز و بارش کی آوازیں محفوظ ہیں تاکہ اگر کسی خلائی مخلوق کو یہ ملے تو وہ ہمیں جان سکے۔

1977ء کے موسمِ گرما میں امریکہ کے کیپ کیناویرل سے ناسا نے دو خلائی جہاز «وائجر 1» اور «وائجر 2» خلا میں روانہ کیے۔ ان کا بنیادی مشن نظامِ شمسی کے بیرونی سیاروں — مشتری اور زحل کی تصاویر کھینچنا تھا اور توقع تھی کہ یہ مشن شاید 5 سال میں ختم ہو جائے گا۔ لیکن آج تقریباً نصف صدی گزرنے کے بعد بھی یہ دونوں فولادی پرندے نہ صرف زندہ اور متحرک ہیں بلکہ وہ ہمارے سورج کے حفاظتی بلبلے (Heliosphere) کو چیر کر ستاروں کے درمیان تاریک اور لامتناہی خلا (Interstellar Space) میں قدم رکھنے والے پہلے انسان ساختہ سفیر بن چکے ہیں۔

24 ارب کلومیٹر کا ناقابلِ تصور فاصلہ

وائجر 1 اس وقت زمین سے 24 ارب کلومیٹر (15 ارب میل) کے فاصلے پر ہے۔ یہ فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ اگر آپ روشنی کی رفتار (3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ) سے اس کی طرف ریڈیو سگنل بھیجیں تو اس سگنل کو وائجر تک پہنچنے میں ساڑھے 22 گھنٹے لگتے ہیں اور وہاں سے جواب واپس آنے میں مزید ساڑھے 22 گھنٹے لگتے ہیں۔ اس کا چھوٹا سا 20 واٹ کا ٹرانسمیٹر (جو فریج کے بلب سے بھی کمزور ہے) اتنی دوری سے اربوں میل کا فاصلہ طے کر کے زمین پر ناسا کے دیو قامت ڈیپ اسپیس اینٹینا کو ڈیٹا بھیجتا ہے۔

گولڈن ریکارڈ: کہکشاں کے نام انسانیت کا خط

دونوں وائجر خلائی جہازوں کے پہلو پر ایک بارہ انچ کی سنہری ڈسک آویزاں ہے جسے «دی گولڈن ریکارڈ» کہا جاتا ہے۔ اس ڈسک کی تیاری کی قیادت نامور سائنسدان کارل سیگن نے کی تھی۔ اس ڈسک پر انسانی تہذیب کا نچوڑ ریکارڈ ہے:

  • زمین کی 55 قدیم و جدید زبانوں میں پیغامات (بشمول عربی اور اردو میں خیر سگالی کے کلمات)۔
  • انسانی اناٹومی، ڈی این اے، ہمارے نظامِ شمسی کے نقشے اور زمین کے مناظر کی 115 تصاویر۔
  • موزارٹ، بیتھوون اور روایتی لوک موسیقی کے ساتھ ہوا کے جھونکوں، بارش، ہاتھی اور سمندر کی لہروں کی آوازیں۔
«وائجر 1 نے 1990ء میں زحل کے پار سے پیچھے مڑ کر زمین کی ایک تاریخی تصویر لی تھی جسے «Pale Blue Dot» کہا جاتا ہے، جس میں ہمارا پورا سیارہ اندھیرے میں روشنی کے ایک ننھے نیلے نقطے کی طرح چمک رہا تھا۔»

ستاروں کے دیس میں ابدی سفر

وائجر جہاز پلوٹونیم کی تابکار بیٹریوں سے بجلی حاصل کر رہے ہیں جو اب تقریباً ختم ہونے کو ہیں۔ آئندہ چند سالوں میں ان کے تمام آلات خاموش ہو جائیں گے اور ان کا رابطہ زمین سے ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جائے گا۔ لیکن نیوٹن کے قانون کے مطابق، خلا کے رگڑ کے بغیر ماحول میں یہ دونوں مسافر اگلے اربوں سال تک ملکی وے کہکشاں کے گرد گھومتے رہیں گے — اس وقت بھی جب ہماری زمین اور سورج کا وجود مٹ چکا ہو گا، وائجر انسانیت کی بقا کی گواہی کے طور پر کائنات میں تیرتا رہے گا۔

یہ معلوماتی مضمون شیئر کریں: