انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر اکثر ایک سحر انگیز تصویر وائرل ہوتی ہے جس میں سمندر کے اندر پانی کے درمیان ایک صاف لکیر نظر آتی ہے — ایک طرف گہرا نیلا پانی اور دوسری طرف مٹیالا ہلکا نیلا پانی، اور دونوں پانی ایک دوسرے میں ملنے سے انکاری ہیں۔ یہ کوئی فوٹوشاپ کا کمال نہیں بلکہ قدرت کا ایک حیرت انگیز سائنسی اور قرآنی مظہر ہے۔
قرآن پاک کا 14 سو سالہ پیشگی بیان
چودہ سو سال قبل، جب انسان کے پاس نہ کوئی سیٹلائٹ تھا اور نہ سمندری لیبارٹریز، قرآن پاک کی سورۃ الفرقان اور سورۃ الرحمٰن میں اس حقیقت کا صاف الفاظ میں اعلان کیا گیا:
"اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو آپس میں ملا رکھا ہے، یہ ایک میٹھا اور پیاس بجھانے والا ہے اور یہ دوسرا کھاری اور کڑوا، اور اس نے ان دونوں کے درمیان ایک پردہ اور مضبوط اوٹ بنا دی۔" (سورۃ الفرقان: 53)
سائنسی حقیقت: ہیلوکلائن اور کثافت کا فرق
جدید سمندری سائنسدانوں (Oceanographers) نے تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ سمندروں کے آپس میں نہ گھلنے کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
- کثافت کا فرق (Density Difference): گلیشیئرز کے پگھلنے سے آنے والے میٹھے پانی کی کثافت کم ہوتی ہے جبکہ سمندر کے کھارے پانی کی کثافت زیادہ ہوتی ہے۔
- نمکیات کا تناسب (Salinity): نمکیات کے تفاوت کی وجہ سے دونوں پانیوں کے درمیان ایک غیبی دیوار بن جاتی ہے جسے سائنس میں "Halocline" کہا جاتا ہے۔
- سطحی تناؤ (Surface Tension): پانی کی لہریں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں اور پانی کا تبادلہ اتنی سست رفتاری سے مالیکیولر لیول پر ہوتا ہے کہ انسانی آنکھ کو دونوں الگ الگ واضح نظر آتے ہیں۔