رات کے گھپ اندھیرے میں جب آئس لینڈ یا ناروے کے برفیلے آسمان پر اچانک سبز، گلابی، سرخ اور جامنی رنگ کی چمکتی ہوئی لہریں رقص کرنے لگتی ہیں، تو ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے آسمان پر جادوئی رنگ بکھیر دیے ہوں۔ اس سحر انگیز قدرتی کرشمے کو "ارورا" (Aurora) یا قطبی روشنیاں کہا جاتا ہے۔
یہ جادوئی روشنیاں کیسے پیدا ہوتی ہیں؟
ارورا کی پیدائش کا اصل منبع زمین پر نہیں بلکہ 15 کروڑ کلومیٹر دور "سورج" پر ہے۔ سورج کی سطح پر مسلسل ہولناک ایٹمی دھماکے ہوتے رہتے ہیں جن سے برقی چارج شدہ ذرات (Electrons & Protons) خلا میں خارج ہوتے ہیں جنہیں "شمسی طوفان" (Solar Wind) کہتے ہیں۔
- جب یہ شمسی ذرات زمین کی طرف آتے ہیں تو زمین کی مقناطیسی ڈھال (Magnetic Field) ہمیں بچانے کے لیے انہیں قطبین کی طرف موڑ دیتی ہے۔
- جب یہ برقی ذرات زمین کے بالائی کرۂ ہوائی میں موجود آکسیجن اور نائٹروجن گیس کے مالیکیولز سے ٹکراتے ہیں تو توانائی خارج ہوتی ہے جو روشنی کا روپ دھار لیتی ہے۔
مختلف رنگوں کا راز
آسمان پر نظر آنے والے مختلف رنگ گیسوں کی بلندی پر منحصر ہوتے ہیں:
- سبز روشنی: زمین سے 100 سے 150 کلومیٹر کی بلندی پر آکسیجن سے بنتی ہے (سب سے عام رنگ)۔
- سرخ روشنی: 200 کلومیٹر سے زائد بلندی پر بہت کم مقدار میں بنتی ہے اور انتہائی نایاب ہوتی ہے۔
- جامنی اور نیلی روشنی: نچلی فضا میں نائٹروجن گیس کے مالیکیولز سے ٹکراؤ پر نظر آتی ہے۔