دن کے عین بارہ بجے جب سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا ہو، اچانک آسمان پر شام کی اداسی چھانے لگے، ہوائیں ٹھنڈی ہو جائیں، پرندے گھبرا کر اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹنے لگیں، اور پھر اگلے ہی لمحے دن کی روشنی یک دم تاریکی میں بدل جائے اور آسمان پر نیلے ستارے چمک اٹھیں — یہ کائنات کا سب سے ہیبت ناک اور مسحور کن تماشا ہے جسے دنیا «مکمل سورج گرہن» (Total Solar Eclipse) کہتی ہے۔
کائنات کا ناقابلِ یقین ہندسیاتی معجزہ
پورے نظامِ شمسی کے آٹھوں سیاروں اور سینکڑوں چاندوں میں زمین وہ واحد سیارہ ہے جہاں مکمل سورج گرہن اس کمال اور خوبصورتی کے ساتھ دکھائی دیتا ہے۔ اس کی وجہ ایک کائناتی ریاضیاتی مطابقت ہے: سورج کا حقیقی حجم ہمارے چاند سے 400 گنا بڑا ہے۔ لیکن معجزاتی طور پر سورج زمین سے چاند کے فاصلے کے مقابلے میں 400 گنا زیادہ دور بھی ہے۔ نتیجے کے طور پر جب زمین سے دیکھا جائے تو دونوں کا کونیائی سائز (Angular Diameter) آسمان پر ہو بہو آدھے ڈگری جتنا برابر دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ چاند سورج کی روشن ڈسک کو ملی میٹر کے حساب سے بالکل ڈھانپ لیتا ہے۔
کرونا کا ظہور اور آئن سٹائن کی سچی تھیوری
عام دنوں میں سورج کی اتنی شدید روشنی ہوتی ہے کہ ہم اس کے بیرونی کمزور ماحول یعنی «کرونا» (Corona) کو کبھی نہیں دیکھ سکتے۔ لیکن مکمل گرہن کے چند منٹوں کے دوران جب چاند سورج کی ڈسک کو چھپا لیتا ہے تو سورج کے گرد سفید موتیوں جیسی لہراتی پلازما کی شعاعیں باہر نکلتی دکھائی دیتی ہیں۔ 1919ء کے تاریخی گرہن میں سائنسدانوں نے دیکھا کہ سورج کی بھاری کششِ ثقل نے پیچھے سے آنے والی نوری کرنوں کو موڑ دیا تھا، جس نے نیوٹن کی صدیوں پرانی فزکس کو بدل کر آئن سٹائن کے اضافیت کے نظریے کو سچ ثابت کر دیا۔
«گرہن کے دوران درجہ حرارت اچانک 5 سے 10 ڈگری گر جاتا ہے، اور زمین پر چاند کے سائے کی رفتار سپرسونک جیٹ طیارے (2400 کلومیٹر فی گھنٹہ) جتنی تیز ہوتی ہے۔»
ایک دن یہ نظارہ ہمیشہ کے لیے چھن جائے گا
فلکیاتی پیمائشوں سے ثابت ہو چکا ہے کہ چاند ہر سال زمین سے 3.8 سینٹی میٹر دور کھسک رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آج سے 60 کروڑ سال بعد چاند زمین سے اتنا دور جا چکا ہو گا کہ وہ آسمان پر سورج کی پوری ڈسک کو چھپانے کے قابل نہیں رہے گا۔ اس وقت کے بعد زمین پر کبھی مکمل سورج گرہن نہیں ہو سکے گا، بلکہ صرف جزوی اور چھلے دار گرہن باقی رہ جائیں گے۔