جب سترہویں صدی میں گیلیلیو گیلیلی نے اپنی پہلی خود ساختہ دوربین سے زحل (Saturn) کو دیکھا تو وہ حیران رہ گیا اور اس نے لکھا کہ «زحل کے دونوں طرف کان بنے ہوئے ہیں»۔ بعد میں جدید فلکیات نے انکشاف کیا کہ وہ دراصل نظامِ شمسی کا سب سے شاندار، خوبصورت اور پرشکوہ زیور — زحل کے شاندار حلقے (Rings of Saturn) ہیں۔ یہ حلقے کائنات کی وہ طلسماتی ڈسک ہیں جو فلکیاتی انجینئرنگ اور کششِ ثقل کا سب سے دلکش نمونہ ہیں۔
حلقوں کے اندر کیا ہے؟ برف کا رقص
دور سے دیکھنے پر لگتا ہے کہ زحل کے گرد سونے کی ٹھوس چوڑیاں پہنا دی گئی ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ حلقے اربوں انفرادی برفانی ٹکڑوں کا ایک تیز رفتار سمندر ہیں۔ ان ٹکڑوں کا سائز ریت کے ایک ننھے ذرے سے لے کر ایک کار یا مکان جتنا بڑا ہو سکتا ہے۔ چونکہ یہ پانی کی خالص برف سے بنے ہیں، اس لیے یہ سورج کی روشنی کو 80 فیصد واپس پلٹاتے ہیں جس کی وجہ سے رات کے آسمان پر چھوٹی دوربین سے بھی جگمگاتے دکھائی دیتے ہیں۔
اتنی بڑی چوڑائی مگر کاغذ جیسی باریکی
زحل کے حلقوں کا پیمانہ انسانی تخیل کو حیران کر دیتا ہے۔ اہم حلقوں کا دائرہ تقریباً 282,000 کلومیٹر میں پھیلا ہوا ہے، یعنی اگر آپ اس کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جائیں تو اس کے اندر 22 عدد کرۂ ارض قطار میں فٹ ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ان کی عمودی موٹائی صرف 10 سے 30 میٹر (ایک دو منزلہ مکان کے برابر) ہے۔ اگر آپ زحل کے حلقے کا ایک فٹ قطر کا ماڈل بنائیں تو اس کی موٹائی ایک شیونگ بلیڈ سے بھی 10,000 گنا زیادہ پتلی ہو گی!
«حلقوں کے درمیان موجود خالی جگہوں میں ننھے چاند (Shepherd Moons) گھومتے ہیں جو چرواہے کی طرح برف کے ذرات کو منتشر ہونے سے روک کر باقاعدہ قطار میں رکھتے ہیں۔»
حلقوں کی موت کا کاؤنٹ ڈاؤن
ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم انسانی تاریخ کے اس دور میں جی رہے ہیں جب زحل کے حلقے اپنے عروج پر ہیں۔ ناسا کے خلائی جہاز «کیسینی» (Cassini) نے 2017ء میں اپنے آخری سفر کے دوران دریافت کیا کہ زحل کی طاقتور کششِ ثقل اور مقناطیسی میدان ان حلقوں سے مسلسل برف نچوڑ رہے ہیں۔ اسے سائنسی اصطلاح میں «رنگ رین» (Ring Rain) کہا جاتا ہے۔ اندازہ ہے کہ اگلے 10 سے 30 کروڑ سالوں میں یہ شاندار حلقے مکمل پگھل کر زحل کی فضا میں غائب ہو جائیں گے اور زحل ایک عام سیارے جیسا بے رونق ہو جائے گا۔