25 دسمبر 2021ء کو کرسمس کے دن جب ایریئن 5 راکٹ خلا کی وسعتوں میں داخل ہوا، تو انسان نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا سائنسی جوا کھیلا تھا۔ 10 ارب ڈالر کی لاگت اور تین دہائیوں کی محنت سے تیار ہونے والی "جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ" (JWST) خلا میں بھیجی جانے والی اب تک کی سب سے پیچیدہ اور طاقتور ترین رصد گاہ ہے، جو وقت میں پیچھے جا کر کائنات کے پہلے ستاروں کی پیدائش کو دیکھ رہی ہے۔
سونے کا آئینہ اور انفراریڈ وژن
ہبل ٹیلی اسکوپ نظر آنے والی عام روشنی (Visible Light) میں دیکھتی تھی، لیکن کائنات کی سب سے قدیم روشنی اربوں سالوں کے سفر اور کائنات کے پھیلاؤ کی وجہ سے کھنچ کر "انفراریڈ" (ریڈ شفٹ) میں تبدیل ہو چکی ہے۔ انفراریڈ لہروں کو پکڑنے کے لیے جیمز ویب کا 6.5 میٹر چوڑا آئینہ بیریلیم دھات کے 18 مسدس (Hexagonal) ٹکڑوں سے بنایا گیا ہے جس پر 24 قیراط خالص سونے کی انتہائی باریک تہہ چڑھائی گئی ہے، جو حرارتی لہروں کو بے مثل صفائی سے فوکس کرتی ہے۔
ٹینس کورٹ جتنی بڑی سن شیلڈ (Sunshield)
دوربین کو سورج، زمین اور چاند کی گرمی سے بچانے کے لیے اس میں پتنگ کی شکل کی 5 تہوں پر مشتمل سن شیلڈ لگائی گئی ہے جو ٹینس کورٹ جتنی بڑی ہے۔ اس سن شیلڈ کا کمال دیکھیے:
- سورج کی طرف کا رخ: 85 ڈگری سینٹی گریڈ کی تپش۔
- دوربین کی طرف کا رخ: منفی 233 ڈگری سینٹی گریڈ کی کائناتی یخ بستگی!
"جیمز ویب ٹیلی اسکوپ اتنی حساس ہے کہ اگر چاند پر بیٹھی شہد کی مکھی ہلکی سی حرارت پیدا کرے تو یہ زمین سے اسے بھی ڈیٹیکٹ کر سکتی ہے۔"
لگرانج پوائنٹ 2 اور نئی دریافتیں
یہ دوربین زمین کے گرد نہیں گھومتی بلکہ زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر دور (چاند سے چار گنا زیادہ فاصلے پر) خلا کے ایک مخصوص توازن والے مقام "L2" پر سورج کا چکر لگا رہی ہے۔ اپنے آغاز کے بعد سے جیمز ویب نے ایسے انوکھے سیاروں (Exoplanets) کے ماحول میں پانی کے بخارات، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور بائیو سگنیچرز تلاش کیے ہیں، اور وہ کہکشائیں دریافت کی ہیں جنہوں نے کائنات کی پیدائش سے متعلق پرانے سائنسی ماڈلز کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔