آسٹریلیا کے شمال مشرقی ساحلوں پر 2300 کلومیٹر کے طویل رقبے پر پھیلا ہوا «گریٹ بیریئر ریف» (Great Barrier Reef) کرۂ ارض پر قدرت کا سب سے عظیم، رنگین اور وسیع شاہکار ہے۔ یہ پانی کے اندر تعمیر کردہ وہ طلسماتی شہر ہے جس کا رقبہ پورے اٹلی، جاپان یا برطانیہ کے رقبے سے بھی بڑا ہے۔ لیکن اس کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ عظیم چٹان کسی پہاڑ یا مٹی سے نہیں بنی، بلکہ یہ کھربوں ننھے، نازک اور خوردبینی کیڑوں کا تراشا ہوا زندہ قلعہ ہے۔
کورل پولپس: سمندر کے ننھے معمار
مرجان (Coral) بظاہر پتھر یا پودا دکھائی دیتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک جانور ہے۔ مرجان کا ہر انفرادی کیڑا جسے «پولیپ» (Polyp) کہا جاتا ہے، سمندری پانی سے کیلشیم اور کاربونیٹ کو کشید کر کے اپنے گرد ایک سخت چونا پتھر کا حفاظتی پیالہ بناتا ہے۔ جب پولیپ مر جاتا ہے تو اس کا چونے کا خول وہیں رہ جاتا ہے جس کے اوپر نئی نسل اپنا گھر تعمیر کرتی ہے۔ پچھلے 8000 سالوں میں کھربوں پولپس کی مسلسل محنت نے یہ عظیم زیرِ آب دیوار تیار کی ہے۔
الجی اور مرجان کی اٹوٹ محبت
مرجان کو ان کے شاندار اور چمکدار نیون، گلابی، نیلے اور پیلے رنگ کہاں سے ملتے ہیں؟ اس کا راز ایک خوردبینی الجی «Zooxanthellae» میں ہے۔ یہ الجی مرجان کے بافتوں کے اندر بستی ہے۔ یہ سورج کی روشنی سے خوراک بناتی ہے اور مرجان کو 90 فیصد توانائی فراہم کرتی ہے۔ اس کے بدلے میں مرجان اسے محفوظ گھر اور معدنیات دیتا ہے۔ یہ فطرت کی سب سے بہترین اور باہمی تعاون پر مبنی شراکت داری ہے۔
«گریٹ بیریئر ریف میں 1500 اقسام کی اشنکٹبندیی مچھلیاں، وہیلز، ڈولفنز، سمندری سانپ اور دنیا کے 7 میں سے 6 اقسام کے نایاب سمندری کچھوے پناہ لیتے ہیں۔»
کورل بلیچنگ کا عالمی خطرہ
آج یہ عظیم عجوبہ اپنی بقا کی سب سے بڑی جنگ لڑ رہا ہے۔ جب گلوبل وارمنگ کی وجہ سے سمندر کا پانی صرف 1 سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم ہو جاتا ہے تو مرجان شدید تناؤ کا شکار ہو کر اپنی دوست الجی کو باہر نکال پھینکتے ہیں۔ الجی کے نکلتے ہی مرجان کے رنگ غائب ہو جاتے ہیں اور ان کے سفید ڈھانچے بے جان ہو کر نظر آنے لگتے ہیں؛ اسے سائنس میں «کورل بلیچنگ» (Coral Bleaching) کہتے ہیں۔ اگر درجہ حرارت جلد نارمل نہ ہو تو پورا ریف مر سکتا ہے، جس کے تحفظ کے لیے آج دنیا بھر کے سائنسدان سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔