امریکہ کی ریاست ایریزونا میں واقع گرینڈ کینین (Grand Canyon) کرۂ ارض پر پانی کے مسلسل بہاؤ اور وقت کے کٹاؤ کا سب سے شاندار اور محیر العقول عجوبہ ہے۔ جب کوئی انسان اس گھاٹی کے کنارے کھڑا ہو کر 6,000 فٹ نیچے جھانکتا ہے تو سرخ، سنہری، گلابی اور سرمئی چٹانوں کے لامتناہی پرت در پرت سلسلے میلوں دور تک پھیلے نظر آتے ہیں۔ یہ جگہ درحقیقت زمین کی دو ارب سالہ ارضیاتی تاریخ کی ایک کھلی ہوئی کتاب ہے۔
پانی کا تراشا ہوا دو ارب سالہ معجزہ
گرینڈ کینین کا وجود دریائے کولوراڈو (Colorado River) کا مرہونِ منت ہے۔ تقریباً 60 لاکھ سال پہلے کولوراڈو کے سطح مرتفع کی زمین ٹیکٹونک طاقتوں سے اوپر اٹھنا شروع ہوئی۔ دوسری طرف دریا اپنے راستے پر بہتا رہا۔ جیسے جیسے زمین اوپر اٹھی، دریا کی رفتار تیز ہوتی گئی اور اس کے پانی میں تیرتے ریت اور پتھروں نے ایک تیز دھار آری کی طرح سخت ترین گرینائٹ چٹانوں کو کاٹنا شروع کر دیا۔ لاکھوں سالوں کی اس خاموش محنت نے 277 میل لمبی اور ایک میل گہری کھائی تراش دی۔
ارضیات کی رنگین ٹائم مشین
اگر آپ گرینڈ کینین کے اوپر سے نیچے کی طرف اتریں تو آپ وقت کے سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں:
- سب سے اوپر کی تہہ (Kaibab Limestone): تقریباً 27 کروڑ سال قدیم، جب ڈائنوسارز سے پہلے کی مخلوقات ساحلی سمندروں میں بستی تھیں۔
- درمیانی تہیں (Redwall Limestone): سرخ رنگ کی عظیم دیواریں جن میں قدیم سمندری مرجان اور فوسلز دبے ہوئے ہیں۔
- تہہ کی بنیادی چٹان (Vishnu Basement Rocks): 1 ارب 84 کروڑ سال پرانی کالی اور چمکدار چٹانیں جو اس دور کی یادگار ہیں جب زمین پر کوئی جانور یا درخت موجود نہیں تھا۔
«گرینڈ کینین میں «دی گریٹ ان کنفرمٹی» (The Great Unconformity) نامی ایک ایسی پراسرار ارضیاتی دراڑ موجود ہے جہاں کی تہوں سے زمین کی تاریخ کے پورے 1 ارب سال کا ریکارڈ پراسرار طور پر غائب ہے!»
جغرافیائی تنوع کا انوکھا تضاد
گرینڈ کینین کی اونچائی اور گہرائی میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ اس کے اندر بیک وقت پانچ مختلف ماحولیاتی زونز پائے جاتے ہیں۔ شمالی کنارے پر کینیڈا جیسے ٹھنڈے صنوبر کے گھنے جنگلات ہیں، جبکہ ایک میل نیچے ندی کی تہہ پر میکسیکو جیسے گرم صحرائی کیکٹس پائے جاتے ہیں۔ یہ انوکھی گھاٹی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ نرم اور لچکدار پانی اگر مسلسل محنت کرے تو وہ سخت ترین پتھر کو بھی موم بنا سکتا ہے۔