اردن اور فلسطین کی سرحد پر واقع "بحیرہ مردار" (Dead Sea) زمین کے ان چند منفرد ترین جغرافیائی خطوں میں سے ہے جو قوانینِ فطرت کی عام تفہیم کو چیلنج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ درحقیقت کوئی کھلا سمندر نہیں بلکہ ایک بند نمکین جھیل ہے، جس کی سطح کرۂ ارض کی خشکی پر واقع سب سے گہرا ترین مقام ہے، اور جس کا پانی انسان کو خود بخود سطح پر معلق رکھتا ہے۔
کششِ ثقل اور کثافت کا کرشمہ: تیرنے کی سائنس
عام طور پر انسان جب کسی جھیل یا دریا میں چھلانگ لگاتا ہے تو تیرنا نہ جاننے کی صورت میں جسم پانی کی کثافت زیادہ ہونے کی وجہ سے نیچے ڈوب جاتا ہے۔ لیکن بحیرہ مردار کے پانی میں نمکیات (میگنیشیم، سوڈیم، پوٹاشیم اور برومین) کی شرح 34 فیصد ہے، یعنی عام سمندر سے 10 گنا زیادہ نمکین۔ اس شدید نمکیات کے باعث پانی کا وزن اور کثافت (1.24 کلوگرام فی لیٹر) انسانی جسم کی اوسط کثافت سے کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔ آپ جیسے ہی اس میں اترتے ہیں، پانی آپ کو کارک کی طرح اوپر اچھال دیتا ہے اور آپ آرام سے تکیہ لگائے بغیر اخبار پڑھتے ہوئے لیٹ سکتے ہیں۔
مردہ سمندر کیوں کہلاتا ہے؟
اس جھیل کا نام ڈیڈ سی اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اس کے اندر کوئی بھی مچھلی، کیکڑا، جھینگا یا سمندری پودا زندہ نہیں رہ سکتا۔ اگر کوئی مچھلی دریائے اردن سے بہہ کر غلطی سے اس جھیل میں آ جائے تو چند سیکنڈ کے اندر پانی اس کے خلیات سے تمام نمی نچوڑ لیتا ہے اور نمک کے کرسٹلز اسے ہلاک کر دیتے ہیں۔ اس پانی میں صرف چند مخصوص اینٹی ایکسٹریم بیکٹیریا اور فنگس ہی زندہ رہ پاتے ہیں۔
"بحیرہ مردار سطح سمندر سے 430 میٹر (1,410 فٹ) نیچے ہے، جس کی وجہ سے یہاں آکسیجن کا لیول اور ماحولیاتی دباؤ عام فضا سے زیادہ ہوتا ہے۔"
قدرتی اسپا اور تاریخی آثار
قدیم زمانے سے بحیرہ مردار کی کالی مٹی اور معدنیات جلدی بیماریوں (سورسس، ایکزیما) کے علاج اور حسن و جمال کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ ملکہ قلوپطرہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بحیرہ مردار کے نمکیات کے خصوصی غسل کرتی تھی۔ اس کی قریبی غاروں سے 1947ء میں "بحیرہ مردار کے قدیم طومار" (Dead Sea Scrolls) برآمد ہوئے جو تاریخی عبرانی متون کے نایاب ترین نمونے ہیں۔